• عقائد و ایمانیات >> بدعات و رسوم

    سوال نمبر: 602882

    عنوان:

    بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ كی تعریف اور ان كا حكم

    سوال:

    حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ "دین میں ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی دوزخ میں لے جانے والی ہے " جب ہر نئی چیز بدعت ہے اور گمراہی ہے تو پھر بدعت حسنہ کا کیا مطلب ہے ؟ کیا بدعت حسنہ گمراہی نہیں ہے ؟ دلائل کی روشنی میں واضح کریں۔

    جواب نمبر: 602882

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:502-64T/SD=7/1442

     اصطلاح شرع میں ہر ایسے نو ایجاد طریقہٴ عبادت کو بدعت کہتے ہیں جو زیادہ ثواب حاصل کرنے کی نیت سے رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کے بعد اختیار کیا گیا ہو اور آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عہد مبارک میں اس کا داعیہ اور سبب موجود ہونے کے باوجود نہ قولا ثابت ہو ، نہ فعلا ، نہ صراحتا ، نہ اشارة، ایسی ہی بدعت کے بارے میں حدیث پاک کے اندر وعید آئی ہے ،اس سے معلوم ہوا کہ اصطلاح شرع میں ہر بدعت؛ سیئہ اور گمراہی ہے ، کسی بدعت اصطلاحی کو بدعت حسنہ نہیں کہا جاسکتا؛ البتہ لغوی معنی میں ہر نئی چیز کو بدعت کہتے ہیں ، اس اعتبار سے ایسی چیزوں کو بدعت حسنہ کہہ دیتے ہیں جو صریح طور پر حضور ﷺ کے عہد مبارک میں نہیں تھیں ، بعد میں کسی ضرورت کی بناء پر ان کو اختیار کیا گیا ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے : رسالہ سنت و بدعت، موٴلفہ حضرت مفتی محمد شفیع رحمة اللہ علیہ،( جواہر الفقہ، جلد اول، ص: ۴۴۱، جدید)اس رسالے میں حضرت نے سنت و بدعت کی حقیقت اور بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کا فرق وضاحت سے تحریر فرمایا ہے ۔

    وقال ابن حجر: والمراد بہا ما أحدث ولیس لہ أصل فی الشرع ، ویسمی فی عرف الشرع “ بدعة ” وما کان لہ أصل یدل علیہ الشرع فلیس ببدعة فالبدعة فی عرف الشرع مذمومة بخلاف اللغة فإن کل شيء أحدث علی غیر مثالٍ یسمی بدعة سواء کان محموداً أو مذموماً۔ (فتح الباری:۳۱۵/۱۳، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اشرفیہ دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند