• عقائد و ایمانیات >> بدعات و رسوم

    سوال نمبر: 602736

    عنوان:

    عقیقہ كے موقع پر تحفہ قبول كرنا

    سوال:

    میری بیٹی کا عقیقہ اس کے نانا (میرے سسور)کر رہے ہیں ۔ہمارے دونوں کے رشتے دار اکسر ایک ہی ہیں ہو سکتا ہے کہ کئی مہمان تحفے کے طور پر کپڑے وغیرہ لایں گے تو اس تحفے کو قبول کر سکتے کیا ؟ عقیقہ کے بارے میں مکمل رہبری کریں۔

    جواب نمبر: 602736

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 569-479/B=07/1442

     0عقیقہ میں ایک بکرا ساتویں دن عقیقہ کی نیت سے ذبح کریں اور بچے کے سر کے بال استرے سے اتروادیں اور اس کے ہموزن چاندی یا اس کی قیمت کسی غریب کو صدقہ کردیں۔ اور بکرے کا گوشت اپنے رشتہ داروں میں دوست و احباب میں محلہ والوں میں تقسیم کردیں۔ اس موقعہ پر کپڑے کا لین دین یا اور کسی سامان کا لینا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔ یہ محض رسم و رواج ہے، ہمیں رسم و رواج کو ختم کرنا چاہئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں جاہلیت کے رسم و رواج کو ختم کرنے کے لئے تشریف لائے تھے۔ جن رشتہ داروں کے بارے میں آپ کو اندیشہ ہو تو آپ انہیں پہلے ہی محبت و پیار کے ساتھ منع کردینا چاہئے، اور خالص سنت کے مطابق عقیقہ کرنا چاہئے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند