• عقائد و ایمانیات >> بدعات و رسوم

    سوال نمبر: 601297

    عنوان: كبھی سری اور كبھی جہری دعا كرانا؟

    سوال:

    ہماری مسجد کے امام صاحب فرض نماز کے بعد دعا کبھی سری کبھی جہری کرتے ہیں ایک ہی معمول نہیں یہ کہاں تک صحیح ہے ؟ اور جہری، سری دعا کے دلائل مطلوب ہیں؟

    جواب نمبر: 601297

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:273-206/sd=4/1442

     فرض نماز کے بعد دعا کرنا مسنون ہے ، امام اور مقتدی سب کو اپنے اپنے طور پر دعا کرنی چاہیے ، امام صاحب اگر کبھی تعلیماً جہری دعا کرادیں، تو اس میں بھی مضائقہ نہیں؛ لیکن اجتماعی دعا کو لازم و ضروری سمجھنا صحیح نہیں ہے اور عام حالات میں سراً ہی دعا افضل ہے ، اس موضوع پر ہمارے اکابر کے مستقل رسائل ہیں ، مثلا:حضرت تھانوی کا رسالہ استحباب الدعوات عقیب الصلوات اور حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی کا رسالہ : النفائس المرغوبة فی حکم الدعا بعد المکتوبة،تفصیل کے لیے ان رسائل کا مطالعہ کرلیا جائے ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند