• عقائد و ایمانیات >> بدعات و رسوم

    سوال نمبر: 601049

    عنوان: لڑکا غریب ہے اور لڑکی امیر اگر منع كرنے كے باوجود وہ جہیز دیں تو اس كا لینا كیسا ہے؟

    سوال:

    سوال یہ ہے کہ لڑکا غریب ہے لڑکی امیر تو لڑکی والوں نے شادی میں گاڑی اور بہت سارا پیسہ جہیز دینے کیلئے کہاہے لیکن لڑکے نے منع بھی کیا ہے تو کیا اس کو لینا جائز ہے یا نہیں آپ وضاحت فرمائیں۔ اور باقی آپ حضرات کا سایہ ہم سب پر قیامت تک قائم رکھے ۔

    جواب نمبر: 601049

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:169-117/N=4/1442

     نکاح کے موقعہ پر جہیز کا لین دین ایک قبیح رسم ہے۔ اور عام طور پر لڑکے والے، لڑکی والوں سے جہیز مانگ کر لیتے ہیں یا لڑکی والوں پر داماد اور اس کے اہل خانہ کا یا معاشرہ کا دباوٴ ہوتا ہے، جب کہ جہیز میں دیا جانے والا تقریباً سارا سامان وہ ہوتا ہے، جس کا نظم گھر بسانے کے لیے خود شوہر پر ضروری ہے اور یہ رسم معاشرہ میں اس درجہ جاگزیں ہوچکی ہے کہ بہت سے لوگ جہیز کو اپنا لازمی حق سمجھتے ہیں اور جہیز مانگنے کو بالکل معیوب نہیں جانتے اور لڑکی والا خواہی نہ خواہی جہیز دینے پر مجبور ہوتا ہے اور معاشرہ میں بہت سی لڑکیاں صرف جہیز کا نظم نہ ہونے کی وجہ سے بے بیاہی بیٹھی رہتی ہیں اور جہیز کے بغیر کوئی مناسب رشتہ نہیں ملتا؛ اس لیے جہیز کی رسم سخت مذموم ہے، اسے ختم کرنا ضروری ہے۔

    اور اگر کوئی شخص لڑکے والوں کے مطالبہ یا معاشرہ کے دباوٴ کے بغیر محض اپنی مرضی وخوشی سے اپنی حیثیت کے موافق بیٹی کو ضرورت کا سامان دینا چاہتا ہے تو اس میں بھی رسم جہیز کی تائید اور تقویت بہر حال ہے؛ اس لیے اس طرح کے لوگوں کو بھی چاہیے کہ شادی کے موقعہ پر بیٹی کو جہیز کے نام سے کوئی سامان نہ دیں۔ اور اگر داماد کی مالی حیثیت اچھی نہ ہو اور آدمی محض اپنی مرضی وخوشی سے بیٹی کی سہولت کے لیے کچھ دینا چاہے اور شادی کے بعد حسب موقعہ خاموشی کے ساتھ وقفہ وقفہ ضرورت کی چیزیں دیدے، کسی سے اس کا تذکرہ وغیرہ نہ کرے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں؛ کیوں کہ یہ عرفاً یا شرعاً جہیز نہیں ہے، محض تعاون وہدیہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند