• عقائد و ایمانیات >> بدعات و رسوم

    سوال نمبر: 4696

    عنوان:

    جو لوگ مندرجہ ذیل باتوں کو جائز، صحیح بھی کہتے ہوں اور ان باتوں پر عمل بھی کرتے ہوں، کیا ایسے لوگوں کو دیوبندی مسلک کا کہہ سکتے ہیں؟ تیجہ، ساتواں، چالیسواں، سالانہ عرس، سنتوں کے بعد پھر اجتماعی دعا، امام کے لیے پگڑی یا رومال کو لازم سمجھنا ، ایسے چھوٹا گاؤں جس کی آبادی سو یا اس سے بھی کم ہو اس چھوٹے گاؤں میں بھی نماز جمعہ ، ستائیسں رجب، اور پندرہ شعبان کی راتوں کو اچھا کھانا پکانا اور مسجدوں میں بھیجنا، ایصال و ثواب کے بدلہ میں مال کھانا، بدعات کے خلاف حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ کے فتوی کونہ ماننے والوں کو دیوبندی مسلک کا کہہ سکتے ہیں؟

    سوال:

    جو لوگ مندرجہ ذیل باتوں کو جائز، صحیح بھی کہتے ہوں اور ان باتوں پر عمل بھی کرتے ہوں، کیا ایسے لوگوں کو دیوبندی مسلک کا کہہ سکتے ہیں؟ تیجہ، ساتواں، چالیسواں، سالانہ عرس، سنتوں کے بعد پھر اجتماعی دعا، امام کے لیے پگڑی یا رومال کو لازم سمجھنا ، ایسے چھوٹا گاؤں جس کی آبادی سو یا اس سے بھی کم ہو اس چھوٹے گاؤں میں بھی نماز جمعہ ، ستائیسں رجب، اور پندرہ شعبان کی راتوں کو اچھا کھانا پکانا اور مسجدوں میں بھیجنا، ایصال و ثواب کے بدلہ میں مال کھانا، بدعات کے خلاف حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ کے فتوی کونہ ماننے والوں کو دیوبندی مسلک کا کہہ سکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 4696

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 911=1035/ب

     

    مذکورہ بالا باتیں امور غیر شرعیہ اور بدعاتِ قبیحہ ہیں۔ اہل سنت والجماعت کے سچے پیرو اور ترجمان علماء دیوبند اور ان کا سلف سے متوارث مسلک ان خرافات سے بری ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند