• عقائد و ایمانیات >> بدعات و رسوم

    سوال نمبر: 46532

    عنوان: شب برأت كی حقیقت كیا ہے؟

    سوال: میرا سوال یہ ہے کہ شب برأت کی حقیقت کیا ہے ؟ کیا اس رات کو جاگنا صحیح حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟ اور اس رات کو اس سال سے لے کر آنے والے سال تک سب کچھ اس رات میں لکھ دیا جاتاہے؟ کیا یہ صحیح ہے ؟ براہ کرم، اس پر روشنی ڈالیں۔

    جواب نمبر: 46532

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1187-1189/N=10/1434 (۱-۲) شب براء ت ایک فضیلت وعبادت کی رات ہے، اس رات میں جاگ کر انفرادی طور پر عبادت کرنا، نفلیں پڑھنا، قرآن پاک کی تلاوت کرنا، ذکر واذکار کرنا اور اپنے لیے اور والدین اور دیگر تمام مسلمان مردوں ور عورتوں کے لیے مغفرت و رحمت وغیرہ کی دعائیں کرنا مستحب ہے، مختلف احادیث میں اس رات کا ذکر آیا ہے، مجمع الزوائد (۸:۱۲۶، حدیث نمبر: ۱۲۹۶۰) میں ہے: ”عن معاذ بن جبل عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: یطلع اللہ إلی جمیع خلقہ لیلة النصف من شعبان فیغفر لجمیع خلقہ إلا لمشرک أو مشاحن“، رواہ الطبراني في الکبیر والأوسط ورجالہما ثقات“ اھ․ (۳) جی ہاں! بعض روایات میں اس کا تذکرہ آیا ہے، تحفة الاحوذی (۳: ۴۴۲، ۴۴۳، مطبوعہ دارالفکر) میں ہے بحوالہ مرقاة المفاتیح: ولا نزاع في أن لیلة نصف شعبان یقع فیما فرق کما صرح بہ الحدیث وإنما النزاع في أنہا الرادة من الآیة، والصواب أنہا لیس مرادة منہا وحینئذ یستفاد من الحدیث والآیة وقوع ذلک الفرق في کل من اللیلتین إعلاما لمزید شرفہما․․․ اھ


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند