• عقائد و ایمانیات >> بدعات و رسوم

    سوال نمبر: 3011

    عنوان:

    میں دیوبندی متکب فکر پر یقین رکھتاہوں، لیکن کچھ چیزوں میں مجھے شک ہے۔  (۱) کیا ہم یا رسول اللہ کہہ سکتے ہیں؟اگر نہیں ! تو کیوں؟ (۲)کیا اسلامیں عید المیلاد کی اجازت ہے؟ اگر نہیں! تو کیوں؟ (۳) نماز کے بعد جہری ذکر جائز ہے یا نہیں؟ (۴) قوالی کی اجازت ہے یا نہیں؟ (۵) اولیاء کی قبروں پر چراغاں کرنا کیساہے؟ براہ کرم، مدلل جواب دیں۔

    سوال:

    میں دیوبندی متکب فکر پر یقین رکھتاہوں، لیکن کچھ چیزوں میں مجھے شک ہے۔  (۱) کیا ہم یا رسول اللہ کہہ سکتے ہیں؟اگر نہیں ! تو کیوں؟ (۲)کیا اسلامیں عید المیلاد کی اجازت ہے؟ اگر نہیں! تو کیوں؟ (۳) نماز کے بعد جہری ذکر جائز ہے یا نہیں؟ (۴) قوالی کی اجازت ہے یا نہیں؟ (۵) اولیاء کی قبروں پر چراغاں کرنا کیساہے؟ براہ کرم، مدلل جواب دیں۔

    جواب نمبر: 3011

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 211/ ھ= 149/ ھ

     

    (۱) کن کن مواقع میں اور کس عقیدہ کے ساتھ یا رسول اللہ کہنا چاہتے ہیں؟

    (۲) مروجہ عید میلاد النبی نہ ہی قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور نہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور جاں نثار حضرات صحابہٴ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے اس کا ثبوت ملتا ہے، نہ متبع سنت سلف صالحین رحمة اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے قولاً و عملاً اس کی اجازت ہے، بلکہ بدلائل حقہ و براہین کثیرہ اس کی ممانعت مصرح ہے، پس شرعاً اس کی اجازت نہیں۔

    (۳) جائز نہیں، بعد سلام جو اوراد مأثور و منقول ہیں ان کو فرداً فرداً بغیر جہر کے سراً پڑھنے کی اجازت ہے۔

    (۴) اجازت نہیں۔

    (۵) ممنوع ہے اس لیے کہ بدعاتِ قبیحہ کی قبیل سے ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند