• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 69770

    عنوان: اگر سب وارثین اس بات پر راضی ہیں کہ والد صاحب کا متروکہ نصف مکان اس بھائی یا بیٹے کے ہاتھ فروخت کردیا جائے تو كیا ایسا كرنا درست ہے؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرم اس مسئلے میں: نظیر صاحب مرحوم ان کی ملکیت میں آج کے 25 لاکھ روپئے مالیت کا گھر ہے ( جب گھر لیا گیا تھا جب مرحوم اور بڑے بیٹے کی آدھی آدھی رقم لگایی گی تھی، اب موجودہ گھر کی کل قیمت ۰۵ لاکھ ہے ) ان کے لڑکے لڑکیوں کو ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا؟ان کی فیملی کی تفصیل اس طرح ہے : بیوی عمر 66 سال( فیملی پنشن ہے ، شوہر سرکاری ملازم تھے ) لڑکے 2 شادی شدہ،لڑکیاں 6 شادی شدہ۔ اگر یہ گھر ان کا لڑکا رکھنا چاہے تو وہ اپنی ماں اور بھائی بہنوں کو کتنی کتنی رقم ادا کرنی پڑ ے گی؟ براہ کرم تفصیل سے جواب عنایت فرماہیں تو عیں نوازش ہوگی۔

    جواب نمبر: 69770

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1343-1319/N=1/1438 (۱): صورت مسئولہ میں مرحوم کا ترکہ اگر پورا مکان نہیں ہے ، صرف نصف مکان ہے ،یعنی: باپ اور بڑے بیٹے دونوں نے نصف نصف رقم ملاکر مشترکہ طور پر یہ مکان خریدا تھا اور مرحوم نے اپنے وارثین میں صرف ایک بیوی، دو بیٹے، اور چھ بیٹیاں چھوڑیں، ماں باپ، دادا دادی وغیرہ میں سے کسی کو نہیں چھوڑا؛ بلکہ ان سب کا انتقال مرحوم سے پہلے ہی ہوگیا تو مرحوم کے ترکہ کا نصف مکان بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث ۸۰/ حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں سے ۱۰/ حصے بیوہ کو، ۱۴، ۱۴/ حصے دونوں بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو اور ۷، ۷/ حصے چھ بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو ملے گے۔اور اگر مکان فروخت کردیا جائے تو مرحوم کے حصے کی قیمت بھی تمام وارثین کے درمیان حسب بالا تناسب سے ہی تقسیم ہوگی، تخریج مسئلہ حسب ذیل ہے: زوجة = 10 ابن = 14 ابن = 14 بنت = 7 بنت = 7 بنت = 7 بنت = 7 بنت = 7 بنت = 7 (۲): اگر سب وارثین اس بات پر راضی ہیں کہ والد صاحب کا متروکہ نصف مکان اس بھائی یا بیٹے کے ہاتھ فروخت کردیا جائے جو اس میں نصف کا شریک ہے تو اس میں کچھ حرج نہیں، جائز ہے ۔ اور اس صورت میں باہمی رضامندی سے نصف مکان کی مناسب قیمت لگائی جائے اور قیمت میں جس وارث کا جو حصہ ہو، وہ خریدنے والا شخص انھیں ادا کردے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند