• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 66063

    عنوان: اگر آپ کے والد صاحب اپنی جائداد بچوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو اسے وہ دو طرح سے تقسیم کرسکتے ہیں

    سوال: میرے والد کے پاس ایک جائداد ہے جس کی قیمت پانچ کروڑ روپئے ہیں، اور پلاٹ کی قیمت ۲۵ لاکھ روپئے ہیں ، ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں، سبھی شادی شدہ ہیں ، والدہ حیات ہیں، میرے والد کی ایک بہن ہیں جو حیات ہیں، والد صاحب بھی حیات ہیں۔ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں کہ اس دولت کو ہم کیسے تقسیم کریں؟

    جواب نمبر: 66063

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 876-878/SN=9/1437

     

    اس سلسلے میں حکم شرعی یہ ہے کہ باپ اپنی زندگی میں تن تنہا اپنی املاک کا مالک ہوتا ہے، اس میں اولاد یا بیوی کا کوئی حق و حصہ نہیں ہے؛ باقی اگر باپ اپنی مرضی و خوشی سے اپنی جائداد وغیرہ زندگی ہی میں بچوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہے؛ تاکہ بچے اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، جائز ہے؛ لہذا صورت مسئولہ میں اگر آپ کے والد صاحب اپنی جائداد بچوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو اسے وہ دو طرح سے تقسیم کرسکتے ہیں۔

    (۱) میراث کے ضابطے کے مطابق تقسیم کریں، اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ جائداد میں سے وہ (آپ کے والد صاحب) اپنے اور اپنی بیوی کے لیے بہ قدر ضرورت رکھ کر مابقیہ کے سات حصہ کریں، ان میں سے ہر ایک بیٹے کو دو دو حصے او ربیٹی کو ایک حصہ دے دیں۔

    (۲) لیکن چونکہ زندگی میں اولاد کو جو کچھ دیا جاتا ہے، وہ ہبہ ہوتا ہے میراث نہیں، اور اولاد کے درمیان ہبہ میں شرعاً برابری پسندیدہ ہے؛ اس لیے میراث کے ضابطے کے مطابق تقسیم کرنے کے بجائے بہتر ہے کہ برابری کے اصول کے مطابق تقسیم کریں، اس کی شکل یہ ہوگی کہ اپنے اور اپنی بیوی کے لیے بہ قدر ضرورت رکھ کر مابقیہ رقم اپنے تینوں بیٹوں اور ایک بیٹی کے درمیان برابر برابر تقسیم کردیں؛ البتہ اگر کوئی اولاد زیادہ ضرورت مندہے یا والدین کی زیادہ خدمت کرتی ہے یا اور کوئی وجہ ترجیح موجود ہے تووہ اسے نسبةً کچھ زیادہ بھی دے سکتے ہیں، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ لیکن اولاد کے درمیان (میراث کے ضابطے کے مطابق یا برابری کے اصول پر) جس طرح بھی جائداد تقسیم کی جائے، تقسیم کے بعد ہر ایک اولاد کو اس کے حصے پر قبضہ و دخل بھی ضرور دے دینا چاہئے، ورنہ بچے اس کے شرعاً مالک نہ ہوں گے۔ درمختار میں ہے: لا بأس بتفضیل بعض الأولاد ․․․․ وکذا في العطایا، إن لم یقصد بہ الإضرار وإن قصدہ فسوی یعطي البنت کالابن عند الثاني، وعلیہ الفتوی، وقال الشامي: قولہ ”وعلیہ الفتوی“ أي قول أبي یوسف من أن التنصیف بین الذکر والأنثی أفضل من التثلیث الذي ہو قول محمد ( درمختار مع الشامی: ۸/۵۰۳، ط: زکریا)۔

    نوٹ: نمبر (۱) اگر اپنی بیوی کو بھی زندگی ہی میں کچھ دینا چاہیں تو ایسا بھی کرسکتے ہیں، ایسی صورت میں اولاً بیوی کو کچھ دے کر اسے قبضہ کرادیں، اس کے بعد جو کچھ بچے اسے مذکورہ بالا طریقوں میں سے کسی ایک کے مطابق تقسیم کردیں، نیز اگر اپنی بہن کو کچھ دینا چاہیں تو اسے بھی دے سکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند