• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 6500

    عنوان:

    یونس کے ایک بیوی، تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔ اس کا انتقال 1995میں ہوا اور2003 میں اس کی بیوی کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس نے جائیداد پونجی میں دکان، گھر اور کچھ نقدی چھوڑا۔ اب تقسیم کا مسئلہ ہے۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کس کوکتنا حصہ ملے گا؟ برائے کرم پوری تفصیل سے جواب عنایت فرماویں۔

    سوال:

    یونس کے ایک بیوی، تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔ اس کا انتقال 1995میں ہوا اور2003 میں اس کی بیوی کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس نے جائیداد پونجی میں دکان، گھر اور کچھ نقدی چھوڑا۔ اب تقسیم کا مسئلہ ہے۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کس کوکتنا حصہ ملے گا؟ برائے کرم پوری تفصیل سے جواب عنایت فرماویں۔

    نوٹ: کیا گھر کا حصہ تقسیم کرنا ہے یانہیں؟

    جواب نمبر: 6500

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 797=735/ ل

     

    اگر یونس مرحوم کے والدین اور ان کی اہلیہ مرحومہ کے والدین میں سے کوئی ان دونوں کی وفات کے وقت حیات نہیں تھا تو تمام ترکہ کو بعد ادائے حقوق مقدمہ علی المیراث 8 حصوں میں تقسیم کرکے دو دو حصے تینوں لڑکوں میں سے ہرایک کو اور ایک ایک حصہ دونوں لڑکیوں میں سے ہرایک کو دیدیا جائے۔

     

    تقسیم تو ہرچیز کی ہوگی اور ہرچیز میں سارے ورثاء کا ان کے حصص کے بقدر حصہ ہوگا، البتہ اگر سارے ورثاء بالغ ہوں اور وہ بالاتفاق کسی ایک وارث کو مثلاً دوکان یا مکان اس کے تمام حصے کی طرف سے دیدیں تو ایسا کرنا جائز ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند