• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 61807

    عنوان: میرے دو سالے ہیں، دونو ں شادی شداہ ہیں، دونوں کے بچے بھی ہیں۔دونوں ایک ہی مکان میں رہتے ہیں جو ان کے والد کے نام ہے ۔ چھوٹاسالا گذر گیاجو کچھ پیسہ پنا چھوڑگیا اور اس مکان مین اس مین اس کے بچوں کاجوایک لڑکی ۶ سال اور ایک لڑ کا ۴ سال کا اور اس کی بیوہ کا کیا حصہ بنتا ہے ؟اور اگر وہ بچوں کو لے کراپنے گھر چلی جائے تب کیا حصہ ہوگا؟ اور اگر وہ دوسری شادی کر لے اور بچے بھی اس کے ہی ساتھ رہین تب اس کا اور بچوں کا کیا حصہ ہوگا؟اور اگر اس کا پیسہ کسی پر ادھار رہ گیا تو وہ آدمی وہ پیسہ اس کی بیوہ بیوی اور بچوں کو دے یا اس مرنے والے کے والد کو دے ؟۔ والد ابہی حیات ہیں اورکسی کے نام کوئی وصیت نہیں کی، نہ کوئی حصہ تقسیم کیا اور والدہ سالے سے پہلے گذر گئی تھیں۔

    سوال: میرے دو سالے ہیں، دونو ں شادی شداہ ہیں، دونوں کے بچے بھی ہیں۔دونوں ایک ہی مکان میں رہتے ہیں جو ان کے والد کے نام ہے ۔ چھوٹاسالا گذر گیاجو کچھ پیسہ پنا چھوڑگیا اور اس مکان مین اس مین اس کے بچوں کاجوایک لڑکی ۶ سال اور ایک لڑ کا ۴ سال کا اور اس کی بیوہ کا کیا حصہ بنتا ہے ؟اور اگر وہ بچوں کو لے کراپنے گھر چلی جائے تب کیا حصہ ہوگا؟ اور اگر وہ دوسری شادی کر لے اور بچے بھی اس کے ہی ساتھ رہین تب اس کا اور بچوں کا کیا حصہ ہوگا؟اور اگر اس کا پیسہ کسی پر ادھار رہ گیا تو وہ آدمی وہ پیسہ اس کی بیوہ بیوی اور بچوں کو دے یا اس مرنے والے کے والد کو دے ؟۔ والد ابہی حیات ہیں اورکسی کے نام کوئی وصیت نہیں کی، نہ کوئی حصہ تقسیم کیا اور والدہ سالے سے پہلے گذر گئی تھیں۔

    جواب نمبر: 61807

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1242-1255/H=12/1436-U مذکورہ فی السوال مکان کے مالک تو آپ کے سسر ہیں، اگر اس مکان مالک دونوں سالے ہیں تو اس کو صاف واضح لکھ کر سوال کریں اور جب کہ سسر حیات ہیں تو ان کی ملکیت میں مرحوم بیٹے (آپ کے سالہ مرحوم) کی بیوی اور اولاد کا کوئی حق وحصہ واجب نہیں ہے، البتہ اگر وہ اپنی زندگی میں مرحوم بیٹے کی بیوہ اور اواد کو کچھ دیدیں تو اس میں کچھ مانع بھی نہیں بلکہ از راہِ صلہ رحمی بقدر ضرورت دیدینا بہتر ہے، باقی آپ کے سالہ مرحوم کی ملکیت میں بوقت وفات جو کچھ مال تھا اُس کا حکم یہ ہے کہ بعد ادائے حقوق متقدمہ علی المیراث وصحتِ تفصیل ورثہ مرحوم کا کل مالِ متروکہ بہتر (72)حصوں پر تقسیم کرکے نو (9)حصے مرحوم کی بیوہ کو اور سولہ (16)حصے مرحوم کے باپ کو اور چونتیس (34)حصے مرحوم کے بیٹے کو اور سترہ (17)حصے مرحوم کی بیٹی کو ملیں گے۔ اور مرحوم کی جو رقم کسی کے ذمہ اُدھار ہے وہ رقم بھی مرحوم کا ترکہ ہے، وہ بھی مذکورہ بالا حصوں کے مطابق ہی تقسیم کی جائیگی مرحوم کی بیوہ اور بچوں کا حق ساقط نہ ہوگا، خواہ بیوہ کہیں نکاح کرے یا نہ کرے اور چاہے وہ میکہ میں رہے یا کہیں دوسری جگہ رہے، وہ اپنے شوہرِ مرحوم کی میراث سے محروم نہ ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند