• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 61120

    عنوان: کیا میں تقسیم سے پہلے والدین کی قبروں کی مرمت اور باپ کی طرف سے حج ادا کر سکتا ھوں(یہ ان کی وصیت نہیں ھے )۔

    سوال: میرے ایک عزیز کو وراثت کی تقسیم کا مسئلہ درپیش ھے ۔ماں کی وفات 9اپریل2006،باپ کی وفات 29مء2009،ورثا:2 بیٹے (1 بیٹا فوت ھو گیا ھے 20اپریل2004.اس کے پسماندگان میں 1بیوہ اور 1بیٹی ھیں.)2 بیٹیاں یعنی 1بیٹا،2بیٹیاں اور فوت شدہ بیٹے کی بیوہ اور بیٹی میں وراثت تقسیم کرنی ھے ۔ براہ کرم، ہر ایک کے حصے کی وضاحت کر دیں۔ کیا میں تقسیم سے پہلے والدین کی قبروں کی مرمت اور باپ کی طرف سے حج ادا کر سکتا ھوں(یہ ان کی وصیت نہیں ھے )۔ آپ کے جواب کا بیتابی سے انتظار ھے گا۔

    جواب نمبر: 61120

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 806-771/Sn=11/1436-U صورت مسئولہ میں مرحوم والد اور مرحومہ والدہ نے جو کچھ ترکہ (زمین، مکان، سامانِ مکان زیورات، نقدی وغیرہ) چھوڑا، بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث، سب کے کل ۴/ سہام کیے جائیں گے جن میں سے ۲/ سہام بیٹے کو اور ۱یک ایک سہم ہرایک بیٹی کو ملیں گے۔ کل ترکہ = ۴ ابن = ۴ بنت = ۱ بنت = ۱ مرحوم کے جس بیٹے کا انتقال ان کی زندگی ہی میں ہوگیا تھا، ان کی بیٹی اور بیوہ کو مرحوم کے ترکہ میں شرعاً حق نہیں ہے، یہ لوگ محروم ہیں؛ لیکن باحیات بیٹے اور بیٹیوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے حصہ میں سے کچھ اپنی بھتیجی اوراس کی والدہ کو بھی دیدیں، یہ ان کی طرف صلہٴ رحمی اور تبرع ہوگا، اور آخرت میں انھیں اس پر بہترین اجر ملے گا، ان شاء اللہ۔ نوٹ: اگر مرحوم بیٹے نے اپنی کچھ مملوکہ چیزیں چھوڑی ہیں یا ان کے والدین نے اپنی پوتی یا بہو کے لیے کچھ وصیت کی ہے تو ان میں مرحوم بیٹے کی بیوی اور بیٹی کا حق ہے، بیٹے نے کچھ مال چھوڑا ہے یا نہیں؟ والدین نے وصیت کی ہے یا نہیں؟ اگر کی ہے تو کتنے مال کی؟ مکمل تفصیل لکھ کر تقسیم شرعی اور حصہ معلوم کرسکتے ہیں۔ (۲) اگر تمام ورثاء بالغ ہیں اور سب اس پر راضی ہیں تو کرسکتے ہیں ورنہ نہیں، اور یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ ”قبر“ کو پختہ بنانا شرعاً منع ہے، اگر مرمت سے پختہ قبر تعمیر کرنا یا پختہ قبر کی اصلاح کرنا مراد ہے تو ایسا نہ کیا جائے، یہ گناہ ہے۔ ------------------------------ جواب صحیح ہے مع تقسیم ترکہ بشرطیکہ ماں باپ کے انتقال کے وقت ان میں سے کسی کے ماں باپ (دادا، دادی، نانا نانی) میں سے کوئی باحیات نہ رہا ہو۔ (ن)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند