• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 604676

    عنوان:

    وارث كی رضامندی كے بغیر بدلے میں دوسری زمین دینا؟

    سوال:

    لڑکی کو وراثت میں گھڑاڑی (جس زمین پرگھر بنایا جاتاہے ) سے دینا ضروری ہے جبکہ گھڑاڑی کی زمین کم ہو یا نسل بڑھنے پر کم ہو نے کا اندیشہ ہو، اور اس گھڑاڑی کی زمین کے بدلے ان کو کھیتی والی زمین دیدی جائے تو کوئی حرج، اس لئے کہ جہاں لڑکی کی شادی ہوئی ہے وہاں ان کے رہنے کیلئے گھڑاڑی کی زمین ہے - اگر وہ نہیں مانتی ہے تو ان کا حصہ اکٹھا نہ دیکر ہر پلاٹ سے تھوڑاڑا دینا چاہتے ہے تو ایسا کرنا صحیح ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 604676

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:4589-543/sd=10/1442

     شریعت کا حکم یہ ہے کہ شرعی ورثاء مال متروکہ کے ہر ہر جزء میں شریک اور حصہ دارہوتے ہیں ؛ البتہ ورثاء باہمی رضامندی سے تقسیم کی کوئی بھی شکل بناسکتے ہیں ، لہذا اگر لڑکی گھڑاڑی کی زمین ہی میں اپنا حصہ طلب کرتی ہے، تو اس کا شرعی حصہ دینا لازم ہوگا، اس کی رضامندی کے بغیر گھڑاڑی کی زمین کے بدلے دوسری جگہ حصہ دینا کافی نہیں ہوگا ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند