• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 603960

    عنوان:

    والد کی جائیداد کی رقم صرف تین بھائیوں میں تقسیم کرنا؟

    سوال:

    میرے بھائی نے میرے والد کی جائیداد ہم سب میں بانٹ دی ہے ۔ انہوں نے 10/5/1998 کو کاغذ پر ہر بھائی کے حصہ کے طور پر 2135000 کے حق کا تخمینہ ہوا پیپر میں۔ 9/7/1998 کو ، انہوں نے 12lac مالیت کی زمین ، 220000 مالیت کا مال اور 500000 روپے نقد کل = 1920000 / ہم کو دیا تھا۔ حساب کے بعد دو مہینوں میں کل رقم جو تبدیلی روپے میں کی تھی 215000 کی ہے ۔ کاروبار میں بھی کوئی نقصان نہیں پہنچے تھا لیکن پھر بھی۔ انھوں نے تبدیلی کی جائیداد کو 6 بھائیوں اور 8 بہنوں میں بانٹنا تھا۔ جن میں دو بھائیوں نے باہمی افہام و تفہیم پر نقد رقم اور زمین لی۔ ہر بہن کو 10lac ملا۔ اب کل 3333 مربع فٹ اراضی باقی 4 بھائیوں اور والدہ میں بانٹ نے کو بچی ۔ جس میں سے انہوں نے مجھے صرف 550 مربع فٹ دیا ہے ۔ 1998 کے بعد سے ، میں اپنے حصے میں سے باقی مربع فیٹ لینے کے لئے مستقل طور پر کہہ رہا ہوں جو میرے حق کا ہے لیکن انہوں نے زمین کی قیمت کا تخمینہ لگایا. 12 لاکھ کی قیمت کی زمین دی جسکا 550 مربع فٹ ہوا زمین میں آلودگی فلٹر پلانٹ ہے ۔ اس کی اجازت سرکار دیتی ہے ۔ جب اجازت سرکار دیتی ہے ایک پیپر دیتی ہے جسکو(N.O.C Paper) بولتے ہیں مجھے سے N.O.C Paper کا وعدہ کیا گیا تھا میرے بھائی نے زبانی وعدہ کیا تھا بٹوارے کے وقت اب میں تحریری طلب کر رہا ہوں وہ چیز نہیں دی جا رہی ہے اب سرکار اب کوئی نوئی N.O.C paper کی اجازت کسی کو نہیں دیتے ہے نہ اس زمین پر نہ محلہ پر بنا اس N.O.C Paper کے نہ ہم کاروبار کر سکتے ہیں اس زمین پے میرے والد نے زیورات کے عوض میری بیوی کے نام پر زمین خریدی۔ شادی کے وقت اسے زیورات نہیں ملے تھے میرے گھر کے طرف سے ۔ 7-8 سال کے بعد میرے بھائیوں نے میری بیوی سے زمین واپس لے لی۔ جس قیمت پر زمین خریدی گئی تھے وہی رقم واپس دی۔ زمین کی خرید کی قیمت 55000 روپے تھی, زمین بکنے کی قیمت 1700000/ روپے تھی جو میرے بھائی نے بیچی میرے بھائی نے میری بیوی سے زمین واپس لے اور بیچا میرے بٹوارے سے دو مہینے پہلے ۔ . میرے بٹوارے کے بعد والدہ نے اپنے دوسرے تین بھائیوں کو 6500000/روپے دیئے ہیں ان تینوں بھائیوں میں ابھی تک بٹوارا نہیں ہوا ابھی تک وہ کوگ ایک میں ہے اور یہ رقم میرے والد کی ہے اس میں مجھ کو کچھ نہیں ملا میں ان سب چیزوں کے جوابات اور اس پر فتویٰ چاہتا ہوں۔ شکریہ

    جواب نمبر: 603960

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:778-216/L=1/1443

     (۱)آپ کے والد کی وفات کے وقت آپ کی والدہ کے علاوہ آپ سب کتنے بہن، بھائی تھے ؟ اس کی وضاحت کریں ؟ اگر آپ ترکہ سے کچھ لے کر اپنے جمیع حق سے دستبردار نہیں ہوتے ہیں تو شرعاً آپ کو آپ کا مکمل حق ملنا ضروری ہے ، بھائی کا آپ کو مکمل حق نہ دینا درست نہیں ۔(۲) آپ کے والد نے زیورات کے عوض جو زمین خریدی تھی کیا وہ تمام یورات آپ کی اہلیہ کے تھے ؟ اس زمین کی خریداری میں کسی اور کی رقم لگی تھی یا نہیں؟ نیز زیورات لیتے وقت آپ کی اہلیہ اور آپ کے والد کے درمیان کسی قسم کا کوئی معاہدہ ہواتھا یا نہیں؟ اس کی وضاحت کرکے سوال کریں۔(۳) جب رقم 6500000رقم آپ کے والد کی ہے تو اس کے حقدار آپ کے والد کے تمام ورثاء ہوں گے ،آپ کی والدہ کا اس رقم کو صرف تین بھائیوں کو دینا درست نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند