• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 603932

    عنوان:

    دادا کی اپنے پوتے کے تئیں وصیت

    سوال:

    محترم میرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اس نے اپنی وراثت تقسیم نہیں کی اور اس کے ایک بیٹے کا انتقال ہو جاتا ہے ... اب وہ شخص اپنے بیٹے کے بچے جوکہ نابالغ ہے اور اس کی ماں کو وہیں ٹھراتا ہے کہ میں اس پوتے کو وراثت میں سے حصہ دوں گا... اب جب وہ شخص فوت ہو جاتا ہے وہ وصیت کرتا ہے کہ میری جائداد میرے بیٹے اور میرے پوتے کے درمیان برابر تقسیم کی جائے گی... اپنی بیٹیوں کا اس میں زکر ہی نہیں کرتا... چونکہ بچے کی پرورش ماں ہی کرتی ہے بچہ ابھی نابالغ ہے والد کے فوت ہونے کے بعد بچے کا چچا کہتا ہے کہ تم یہاں سے نکل جاؤ مجھے مکان بند کرنا ہے کیونکہ مجھے یہاں نہیں رہنا اور تم محرم کے بغیر یہاں نہیں رہ سکتی اس صورت حال میں کیا بچے کا حصہ ماں کے حوالے کیا جا سکتا ہے اور کیا وہ بچے کے ساتھ وہاں رہ سکتی ہے ... سوم اگر اس سے کوئی شخص نکاح کرتا ہے اور اس بات پر آمادہ ہو جاتا ہے کہ وہ اسے حصے پر بچے کے ساتھ رہے کیا شریعت اسے اس بات کی اجازت دیتی ہے ؟ برائے کرم اصلاح فرمائیں؟

    جواب نمبر: 603932

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 676-560/D=08/1442

     (۱) دادا نے جو یہ کہا کہ میں پوتے کو وراثت میں سے حصہ دوں گا کیا دادا نے اپنی زندگی میں کچھ ہبہ کردیا تھا وضاحت کریں۔

    (۲) دادا نے جو وصیت کی ہے اس کی نقل منسلک کریں۔

    (۳) اگر بچہ یا اس کی ماں کا شرعاً کوئی حصہ دادا کی جائیداد میں نکلتا ہے تو ماں اس حصے میں بچہ کو لے کر رہ سکتی ہے۔ شرعاً ماں یا بچہ کا کیا حصہ نکلتا ہے اس کا جواب اوپر دوسوال کی وضاحت کے بعد ہوسکے گا۔

    (۴) اگر شرعی طور پر بچہ یا ماں کا حصہ بربنائے وصیت یا ہبہ دادا کی جائیداد میں نکلتا ہے تو چچا پر لازم ہے کہ ان کا حصہ ان کے حوالے کرے۔ اور اگر نہیں نکلتا ہے تو بھی بچہ کا نفقہ چونکہ چچا پر لازم ہے اس لئے چچا پر واجب ہے کہ بچہ کے رہنے اور کھانے کپڑے کا بندوبست کرے اور اس کی پرورش جب تک ماں کے ذمہ ہے ماں کی رہائش کا بھی بندوبست کرے ورنہ اللہ تعالی کے یہاں سخت گرفت ہوگی اور عذاب جہنم کا مستحق ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند