• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 603809

    عنوان: اولاد كے لیے وصیت كرنا؟

    سوال:

    میرے دوبیٹے ، ایک بیٹی اور ایک بیوی ہے، مجھے وصیت کرنی ہے کہ میرے مرنے کے بعد اگر میں ان سب سے پہلے مر گیا تو میری ساری وارثت سب میں برابر تقسیم ہو جائے، کیا میں ایسی وصیت کرسکتاہوں؟ اگرنہیں تو پھر کیا طریقہ کار ہو گا ؟ کیا میری ساری وراثت سب میں برابر تقسیم ہو؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں، آج کل میں ملک سے باہر ہوں، اگر رابطہ کرنا ہو تو صرف بوٹیم (BOTIM) پے ہوسکتاہے۔

    جواب نمبر: 603809

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 608-527/M=08/1442

     وارث کے لیے اصلاً وصیت نہیں ہے۔ حدیث میں ہے: لا وصیة لوارث۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ وراثت سب میں برابر تقسیم ہوجائے تو زندگی میں ہر ایک کو برابر برابر حصہ دے کر مالک و قابض بناسکتے ہیں اور یہ عطیہ و ہبہ کہلائے گا اور اگر زندگی میں بٹوارے کا عمل نہیں کیا اور موت کے وقت وصیت کرگئے کہ میرے مرنے کے بعد تمام ورثہ آپس میں ترکہ برابر برابر تقسیم کرلیں تو ورثہ پر اس وصیت کے مطابق تقسیم لازم نہیں ہے لیکن اگر سبھی اولاد بالغ ہوں اور تمام ورثہ بخوشی آپ کی وصیت کے مطابق برابری کے ساتھ تقسیم کرنا چاہیں تو ا ن کو اختیار ہے، ایسا کرسکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند