• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 603510

    عنوان:

    دو بھائیوں اور چار بہنوں كے درمیان وراثت كی تقسیم

    سوال:

    حاجی وکیل صاحب نے دو سال پہلے زمین فروخت کی تھی جس کی رقم ابھی تک بھی دستیاب نہیں ہوس کی ، اب سے سال بھر پہلے حاجی جی کا انتقال ہوگیا تھا ،اہلیہ بھی فوت ہوچکی ہیں ،پسمادگان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑی ہیں جو ماشائللہ سب صاحب اولاد ہیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ زمین کی جو رقم ملے گی شریعت کی رو سے اس میں کون کون حقدار ہے ،صرف دونوں بھاء یا بہنیں بھی ؟ اگر بہنیں بھی حصہ دار ہوگی تو کس کو کتنا حصہ ملے گا؟(وضاحت)حاجی جی نے جو وصیت کی تھی اس میں اس بات کا (زمین کی رقم کے تعلق سے ) کوئی ذکر نہیں ہے البتہ یہ ضرور کہا ہے کہ میں اپنی بیٹیوں کو جو دینا تھا دیکر فارغ کر چکا ہوں اب جو بھی کچھ ہے دونوں بیٹوں کا ہے جواب عطاء فرمائیں ۔

    جواب نمبر: 603510

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 586-463/D=07/1442

     (۱، ۲) وکیل صاحب کے والدین اور بیوی کا وکیل صاحب کی زندگی ہی میں انتقال ہوچکا ہو اور وکیل کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں صرف دو لڑکے اور چار لڑکیاں ہیں تو مرحوم کا کل ترکہ حقوق مقدمہ علی الارث کی ادائیگی کے بعد آٹھ (8) حصوں میں منقسم ہوکر دو دو (2-2) حصے دونوں لڑکوں کو اور ایک ایک حصہ ہر ایک لڑکی کو ملے گا۔

    کل حصے   =             8

    -------------------------

    لڑکا          =             2

    لڑکا          =             2

    لڑکی         =             1

    لڑکی         =             1

    لڑکی         =             1

    لڑکی         =             1

    --------------------------------

    اگر وکیل کے انتقال کے وقت ان کے والدین اور بیوی میں سے کوئی زندہ رہا ہو تو اس کی صراحت کرکے دوبارہ حکم معلوم کریں۔

    (۳) حاجی وکیل کا یہ کہنا کہ میں اپنی بیٹیوں کو جو دینا تھا دے کر فارغ ہوچکا ، اس سے لڑکیوں کا حصہ وراثت ختم نہ ہوگا۔ زندگی میں وکیل صاحب کا جو کچھ جسے دے کر مالک قابض بناچکے وہ اس کا ہوگیا۔ پھر مرنے کے بعد جو کچھ ترکہ چھوڑا اس میں اس کے ورثاء شرعی کا پھر سے حق ہوگا۔ یہ قرآن کا حکم ہے لڑکیوں کے حق وراثت کو کوئی ختم نہیں کرسکتا، وہ دینا ہی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند