• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 603414

    عنوان: وراثت کی تقسیم 

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان اکرام علمائے عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ دو حقیقی بھائی اور دو بہنیں ہیں چاروں کے لیئے ان کے والد نے ترکہ میں 410 گز زمین چھوٹی ہے ، کتنی زمین شرعی اعتبار سے کس کے حصہ میں آئیگی وظاحت فرمائں مدلل جواب مطلوب ہے ۔ 

    جواب نمبر: 603414

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:673-550/L=8/1442
    مذکورہ بالا صورت میں اگر مرحوم کی وفات کے وقت ان کی اہلیہ والدین ،دادا، دادی نانی میں سے کوئی حیات نہ رہا ہو تو مرحوم کا تمام ترکہ بعد ادائے حقوقِ مقدمہ علی المیراث ۶/حصوں میں منقسم ہوکر دو، دو حصے دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کو اور ایک ایک حصہ دونوں بہنوں میں سے ہر ایک کو ملے گا۔ اس اعتبار سے زمین تقسیم کرلی جائے اور چونکہ بعض زمینیں زیادہ قیمتی اور بعض کم قیمتی ہوتی ہیں اسی طرح جائے وقوع کے اعتبار سے بھی زمینوں کی قیمتیں متفاوت ہوتی ہیں؛ اس لیے گز وغیرہ کے اعتبار سے اس کی تقسیم نہیں کی جاسکتی، باہم کچھ لوگ بیٹھ کرزمینوں کی قیمت کا اندازہ کرکے زمین تقسیم کردیں اگر کوئی زیادہ قیمتی زمین لے رہا ہے تو اس کے مقابل دوسرے کو کم قیمت کی زمین اسی تناسب سے زیادہ دی جاسکتی ہے۔
    وإذا قسم الدور فإنہ یقسم العرصة بالذراع ویقسم البناء بالقیمة ویجوز أن یفضل بعضہم علی بعض لفضل قیمة البناء والموضع لأن المعادلة فی القسمة بین الأنصباء واجبة صورة ومعنی ما أمکن وإذا لم یمکن اعتبار المعادلة فی الصورة تعتبر المعادلة فی المعنی.(الفتاوی الہندیة 5/ 209)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند