• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 603385

    عنوان:

    والد اگر زندگی میں جائیداد تقسیم كریں تو بیٹی كے لیے كتنا ہوگا؟

    سوال:

    ہم دوبھائی بہن ہیں(ایک بھائی،ایک بہن)،میرے والدین ابھی زندہ ہیں۔لیکن گھر کے حالات(آپسی)اچھے نہیں ہیں، جس کی وجہ سے والدین(والد معذور ہیں) دیکھ بھال میں کرتی ہوں۔ اگر والدین کی جائداد تقسیم کی جائے تو میرا کتنا حصہ ہوگا، اور میری والدہ کا کتنا حصہ ہوگا؟

    جواب نمبر: 603385

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 714-525/B=08/1442

     ماں باپ کی حیا ت میں اگر ان کی جائیداد تقسیم کی جائے تو تمام اولاد کو برابر برابر دینا افضل ہے یعنی والدین کی پوری جائیداد کو دو حصوں میں کرکے ایک حصہ بیٹے کو اور ایک حصہ بیٹی کو دے دیا جائے۔ اور اگر میراث کے اعتبار سے تقسیم کریں تو للذکر مثل حظ الأنثیین کے حساب سے دینا ہوگا۔ یعنی والدہ کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ اور باقیماندہ مالیت میں 2 حصہ بھائی کا اور ایک حصہ بہن کا ہوگا۔ والدہ کو دونوں صورتوں میں آٹھواں حصہ ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند