• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 603085

    عنوان:

    کیا والد اپنی پوری جائیداد کسی ایک کے نام کر سکتا ہے؟

    سوال:

    میرا سوال یہ ہے کہ؛ کیا والد اپنی پوری جائیداد اولاد میں سے کسی ایک کے نام کر سکتا ہے ؟ ایک شخص کو تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ، لیکن اس نے پوری جائیداد اپنے بیٹے کے نام کردیا ہے ،اور بیٹیوں کو کچھ بھی نہیں دیا ۔ کیا اس کا ایسا کرنا درست ہے ؟ برائے مہربانی جواب سے مستفید فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 603085

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 441-461/B=07/1442

     باپ جب اپنی حیات میں اپنی جائداد اپنی اولاد کو دیتا ہے تو وہ ہبہ اور عطیہ کہلاتا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرو تو سب کو لڑکا ہو یا لڑکی برابر برابر تقسیم کرو۔ سووا بین اودلاکم فی العطیة۔ بلا وجہ کسی کو دینا اور کسی کہ نہ دینا یہ حق تلفی ہے۔ باپ کا صرف بیٹے کو دینا اور بیٹیوں کو نظرانداز کردینا مناسب نہیں۔ یہ ہندوٴں کا طریقہ ہے، اسلامی طریقہ نہیں ہے۔ باپ کو چاہئے کہ اپنی جایداد کو چار برابر حصوں میں کرکے ہرایک کو برابر برابر ایک ایک حصہ دیدے۔ یہ افضل طریقہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند