• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 601602

    عنوان:

    كیا بیوی سارے تركہ كی مالك بن سكتی ہے؟

    سوال:

    سوال ؛ کُل رقبہ 81 کنال 5 مرلے ورثاء حقیقی برادران محمدقاسم محمد مِیرداد گزارش ہے کہ محمد قاسم کی زمین اسکی بیوہ کے نام لکھی گئی ہے ، کیا اسلام میں یہ جائزہے کہ بیوہ سارے ترکے کی مالک بن جائے؟ اگرجائز نہیں تو یہ زمین محمد قاسم (جس کی یہ میراث ہے) اس کے نام لکھی جائے یانہیں؟

    جواب نمبر: 601602

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:388-296/L=5/1442

     کسی شخص کی وفات کے بعد اس کا چھوڑا ہوامال ترکہ کہلاتا ہے اور ترکہ میں مرحوم کے تمام ورثاء شرعی کا حق ہوتا ہے ،بیوی بھی وارث ہوتی ہے ،اگر مرحوم کی کوئی اولاد نہ ہو تو بیوی کو ترکہ کا ایک چوتھائی ملتا ہے ،اور بقیہ دیگر ورثاء کے درمیان تقسیم ہوتا ہے ،اگر مرحوم کے جملہ ورثاء کی تفصیل لکھ کر بھیجی جائے تو ان شاء اللہ ترکہ کی تقسیم حسبِ شرع کردی جائے گی ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند