• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 601057

    عنوان: شوہر‏، دو بیٹے‏، پانچ بیٹیوں كے درمیان تقسیم

    سوال:

    خاتون نے جس وقت وفات پائی ان کے پاس تقریباً 5 تولے سونا تھا جو کہ شوہر نے خرید کر کے دے رکھا تھا (بطور ملکیت )وارثان مین شوہر 2 بیٹے اور 5 بیٹیاں ہیں وفات سے لچھ عرصہ قبل کچھ زیور ایک بیٹے کو اس شرط پر دیا تھا کہ وہ کچھ عرصہ میں سب سے چھوٹی بیٹی(شادی شدہ) کو بطور ملکیت واپس کرے گا تاہم اس بیٹے کا کاروباری نقصان ہوگیا اور وہ واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ { 1} کیا وہ زیور جو بیٹی کا تھا اور بطور ادھار بیٹے کو دیا گیا وہ مرحومہ کا قرض شمار ہوگا اور بعد ادائیگی ورثہ تقسیم ہوگا{ 2} مرحومہ کے شوہر کا کہنا ہے کہ وہ اکلوتا وارث ہے کیونکہ مرحومہ کے قبضے میں تمام زیور نقدی اسی کی کمائی تھی۔

    جواب نمبر: 601057

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:173-118/N=4/1442

     (۱): مرحومہ نے جو زیور کسی بیٹے کو بہ طور قرض دیا تھا، اگر مرحومہ نے اپنی حیات میں چھوٹی بیٹی کوہبہ کرکے اس پر قبضہ دخل نہیں دیا تھا؛ البتہ بیٹے کو بعد میں بیٹی کو دینے کا حکم کیا تھا تو یہ زیور شرعاً بیٹی کا نہیں ہوا؛ بلکہ مرحومہ ہی کا ہے؛ لہٰذا اب مرحومہ کی وفات پر حسب شرع جملہ وارثین میں تقسیم ہوگا۔

    (۲):صورت مسئولہ میں مرحومہ کے شوہر کا یہ کہنا قطعاً غلط ہے کہ وہ مرحومہ کا اکلوتا وارث ہے، مرحومہ کے شرعی وارث بیٹے بیٹیاں بھی ہیں۔ اور جو زیور وغیرہ شوہر نے خرید کر یا بنواکر مرحومہ کو ہبہ کردیا تھا اور مرحومہ نے اس پر قبضہ دخل بھی حاصل کرلیا تھا ، وہ مرحومہ کا ہوگیا تھا، اب مرحومہ کی وفات پر مرحومہ کے تمام شرعی وارثین میں تقسیم ہوگا، ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف شوہر کو ملے گا؛ البتہ جو زیور وغیرہ شوہر نے مرحومہ کو بہ طور عاریت صرف استعمال کے لیے دیا تھا، وہ چوں کہ شوہر ہی کا ہے ، مرحومہ کا نہیں؛ اس لیے وہ مرحومہ کے ترکہ میں شامل نہ ہوگا؛ بلکہ شوہر کو واپس ملے گا۔

    صورت مسئولہ میں مرحومہ نے اگر اپنے وارثین میں صرف شوہر، ۲/ بیٹے اور ۵/ بیٹیاں چھوڑی ہیں اور مرحومہ کے ماں، باپ، دادا، دادی اور نانی کا انتقال مرحومہ کی حیات ہی میں ہوگیا تھا تو مرحومہ کا سارا ترکہ بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث ۱۲/ حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں سے ۳/ حصے شوہر کو، ۲، ۲/ حصے ہر بیٹے کو اور ایک، ایک حصہ ہر بیٹی کو ملے گا۔ تخریج کا نقشہ حسب ذیل ہے:

    مسئلہ۴، تص۱۲

    زوج         =             3

    ابن          =             2

    ابن          =             2

    بنت         =             1

    بنت         =             1

    بنت         =             1

    بنت         =             1

    بنت         =             1

    قال اللّٰہ تعالی:﴿فإن کان لھن ولد فلکم الربع مما ترکن من بعد وصیة یوصین بھآ أو دین﴾ (سورة النساء، رقم الآیة: ۱۲)۔

    وقال تعالی أیضاً:﴿یوصیکم اللہ في أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین﴾(المصدر السابق)۔

    وعن ابن عباس قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ”ألحقوا الفرائض بأھلھا، فما بقي فھو لأولی رجل ذکر“، متفق علیہ (مشکاة المصابیح، باب الفرائض، الفصل الأول، ص ۲۶۳، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔

    والربع للزوج مع أحدھما- أي: الولد أو ولد الابن- إلخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الفرائض، ۱۰: ۵۱۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

    ثم العصبات بأنفسھم أربعة أصناف: جزء المیت ثم أصلہ ثم جزء أبیہ ثم جزء جدہ ویقدم الأقرب فالأقرب منھم بھذا الترتیب فیقدم جزء المیت کالابن ثم ابنہ وإن سفل إلخ (المصدر السابق، ص: ۵۱۸)۔

    ویصیر عصبة بغیرہ البناتُ بالابن الخ (المصدر السابق، ص:۵۲۲)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند