• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 601046

    عنوان:

    والد حیات ہیں مگر ان کی عقل زائل ہوگئی ہے‏، كیا ان كی جائداد تقسیم كرسكتے ہیں؟

    سوال:

    ہماری مسجد وار جماعت کے ساتھی کے والد صاحب حیات ہیں اور ان کی عقل مفقود ہوچکی ہے ، عمر کی وجہ سے ان کی ساری جائیداد ایک بیٹے کے ذمے دی ہوئی ہے اور وہ اپنے والد کی طرف سے سارے ورثہ میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اب کیا وہ سب میں تقسیم کر سکتے ہیں یا نہیں؟ کیا انہیں برابر برابر تقسیم کرنا ہوگا؟یا میراث کی شرعی تقسیم کرنی چاہیے اب ان کی والدہ اور والد کا حصہ کیا ہوگا۔ (مدلل جواب مطلوب ہے ) جزاک اللّہ خیر۔

    جواب نمبر: 601046

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 332-262/H=03/1442

     اگرچہ ان کی عقل مفقود ہوگئی ہے مگر اس کی وجہ سے ان کے اموال سے ان کی ملکیت ختم نہ ہوئی، نہ ہی اولاد کو تقسیم کا حق ہے ان کے علاج معالجہ و ضروریات پر خرچ کرتے رہیں اور ان کو علاج سے صحت حاصل ہو جائے یا ان کی وفات ہو جائے تب دوبارہ سوال صاف صحیح واضح تفصیل لکھ کر کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند