• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 600649

    عنوان:

    جائیداد کی تقسیم میں نا انصافی

    سوال:

    ۱۔چھوٹے بھائی انوراحمد صدیقی نے والدین کی خرید ی ہوی جائداد شر عی تقسیم کی بجائے لندن کے قانون سے وہاں مقیم تین بھائیوں میں تقسیم کرتے ہو ئے حیدرآباد میں مقیم 1/4 شیر کے حقدار بڑے بھائی کو محروم کرنافرماین شرعی لحاظ سے کیسا عمل ہے ؟

    ۲۔انور احمد صدیقی کے اچانک انتقال کی وجھے سے اس جائداد کے آثاثے ان کی بیوی اور مخیر بچوں کو مل گئے فرمائیں کیا ان کی شرعی ذمہ داری کیا ہے ؟

    جواب نمبر: 600649

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 211-128/B=03/1442

     اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ہر ایک کا حصہ مقرر کردیا ہے اسی کے مطابق مرنے والے کا ترکہ تقسیم کیا جائے گا۔ کسی کو اس میں من مانی تقسیم کرنا غیراسلامی ملک کے قانون کے مطابق تقسیم کرنا، یہ قرآن کی خلاف ورزی ہے جو بالکل ناجائز و حرام ہے۔ اور وارث کے حصے جو قرآن نے مقرر کئے ہیں ورثہ دنیا کے جس گوشہ میں ہوں گے اپنے حصہ کے حقدار ہوں گے، اور انھیں ان کا حصہ شرعی دینا ہوگا۔ مثلاً سوال کے مطابق اگر مرنے والے کی ایک بیوی اور ۴/ لڑکے ہیں تو مرنے والے کے تمام ترکہ میں سے بیوی آٹھویں حصہ کی حقدار ہوگی اور باقی ماندہ ترکہ چار برابر حصوں میں تقسیم کرکے ایک ایک حصہ چاروں بیٹوں کو مل جائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند