• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 600483

    عنوان: چار لڑكے اور تین لڑكیوں كے درمیان تقسیم وراثت

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلے ذیل کے بارے میں :- ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس نے وراثت میں کئی طرح کے مال و متاع ترکے میں چھوڑا ،اس شخص کے چار(۴) بیٹے اور تین (۳)بیٹیاں حیات ہے ،جو اسکے مال و متاع کے وارث ہیں۔ نیز اس بات کی تحقیق چاہتے ہیں کہ ایک عالم (داماد) کہتا ہے '' حساب اس طرح ہوگا کہ اگر سوا روپیہ (1.25)کا حساب رہتا ہے تو بارہ آنے لڑکے کے اور آٹھ آنے لڑکی کے ،، جب کے ہم نے سنا ہے کہ شریعت کے حساب سے لڑکے کو لڑکی سے دوگنا ملتا ہے ۔ براہ کرم مدلل و مفصل جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 600483

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 63-48/M=02/1442

     اگر اس شخص کی زوجہ اور والدین میں سے کوئی حیات نہیں، صرف چار بیٹے اور تین بیٹیاں وراث ہیں تو شخص مرحوم کا جملہ ترکہ مملوکہ حقوق مقدمہ علی الارث کی ادائیگی کے بعد گیارہ (11) حصوں میں تقسیم ہوگا،جن میں سے دو دو (2-2) حصے چاروں لڑکوں میں سے ہر ایک کو اور ایک ایک (1-1) حصہ تینوں لڑکیوں میں سے ہر ایک کو ملے گا۔ آپ نے صحیح سنا ہے کہ لڑکے کو دوہرا اور لڑکی کو ایکہرا حصہ ملتا ہے ۔ قرآن میں ہے: یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ الآیة (سورہ نساء)

    کل حصے   =             11

    -------------------------

    ابن          =             2

    ابن          =             2

    ابن          =             2

    ابن          =             2

    بنت         =             1

    بنت         =             1

    بنت         =             1

    --------------------------------


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند