• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 600460

    عنوان:

    باپ کی دیکھ ریکھ کرنے والے بیٹے کا باپ کی پینشن سے کچھ حصہ لینا

    سوال:

    میرے والد کی دو بیویاں ہیں، پہلی بیوی سے دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں، دوسری بیوی سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے، پہلی بیوی فوت ہوچکی ہے، میرے والد ریٹائر ڈ سرکاری ٹیچر ہیں، اور دوسری بیوی بھی ریٹائرڈ سرکاری ٹیچر ہیں، میر ے والد نے دوسری شادی کے بعد سے ہی دونوں کی کمائی لے کر چھ بچوں پر خرچ کیا ، گھر بنائے، شادیاں کرائیں، اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہاتھ پیر سے معذور ہیں ، وہ دوسری بیوی کے لڑکے کے پاس رہتے ہیں، ان کی دیکھ بھال دوسری بیوی اور ان کا لڑکا کررہاہے، ان کی دیکھ بھال کے لیے دوسری بیوی کا لڑکا اپنے والد کی پینشن سے کچھ حصہ لے رہے ہیں، کیا ایسا لینا درست نہیں؟ دوسرے لڑکے ان کی خدمت بھی نہیں کرررہے ہیں اور تیسرے لڑکے والد کے خرچ کے لیے پیسہ لینے پر بھی اعتراض کررہے ہیں، اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 600460

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:110-47/N=2/1442

     (۱، ۲): معذور باپ کی دیکھ ریکھ کرنے والا (دوسری بیوی کے بطن سے پیدا شدہ) بیٹا، باپ کی پینشن سے جو کچھ حصہ لیتا ہے، ظاہر یہ ہے کہ وہ باپ کی اجازت ومرضی سے لیتا ہے، نیز وہ باپ کے کھانے خرچے وغیرہ کے عوض میں لیتا ہے، مفت نہیں لیتا یا اُسی سے باپ کے کھانے خرچے وغیرہ کا انتظام کرتا ہے ؛ لہٰذا اس کا یہ لینا بلا شبہ درست ہے اور اعتراض کرنے والے بیٹوں کا اعتراض غلط ہے۔

    (و)تجب (علی موسر) ولو صغیراً (یسار الفطرة) علی الأرجح……(النفقة لأصولہ)…(الفقراء) ولو قادرین علی الکسب ……(بالسویة) بین الابن والبنت إلخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطلاق، باب النفقة، ۵: ۳۵۰- ۳۵۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۱۰: ۶۲۷- ۶۳۴، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

    قولہ: ”الفقراء“: قید بہ؛ لأنہ لا تجب نفقة الموسر إلا الزوجة (رد المحتار) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند