• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 600323

    عنوان:

    ایک بیٹے کے لیے وصیت کردہ یا ہبہ کردہ گھر کا حکم

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ والد نے اپنی حیات میں کچھ لوگوں کے سامنے جس میں انکا ایک بیٹا اور دوست بھی تھا والد نے اس سے کہاتھا کہ یہ گھراسکاہے اس کے (جو بیٹا موجود تھا) نام کردینا اور بیٹا اسی گھر میں رہ رہا تھا لیکن اب تک انہوں نے اس کے نام نہیں کیا ہے تو اس میں شرعی حکم کیا ہے ؟اگر وہ اس (بیٹے )کاہے اور گواہ بھی موجود ہے لیکن وارثین نہیں مان رہے ہیں تو اب اس میں شرعاً کیا مسئلہ ہوگا؟

    جواب نمبر: 600323

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:97-37T/N=3/1442

     صورت مسئولہ میں مرحوم نے اپنی حیات میں ایک بیٹے کے لیے کسی گھر کے بارے میں جو الفاظ کہے ہیں، یعنی: ”یہ گھر اس کا ہے ، اس کے نام کردینا“، یہ بہ ظاہر وصیت کے الفاظ ہیں جیسا کہ دوسرے جملہ (: اس کے نام کردینا)سے معلوم ہوتا ہے اور اسلام میں وارث کے لیے وراثت رکھی گئی ہے، اُس کے لیے وصیت درست نہیں ہے ، یعنی: وصیت کرنے والے کی وفات کے بعد اگر دیگر وارثین کی رضامندی نہ ہو تو وارث کے لیے کی گئی وصیت کا اعتبار نہیں ہوتا؛ لہٰذاصورت مسئولہ میں اگر مرحوم کے دیگر وارثین اس وصیت پر راضی نہیں ہیں تو مرحوم کا یہ مکان ترکہ میں شامل ہوگا، مرحوم کے صرف اُس بیٹے کو نہیں دیا جائے گا، جس کے لیے مرحوم نے وصیت کی ہے۔

    اور اگر مرحوم کے یہ الفاظ، ہبہ کے معنی ہیں، یعنی: مرحوم نے زندگی ہی میں اُس بیٹے کو یہ گھر دیدیا تھا تو جواب سے پہلے درج ذیل باتیں وضاحت طلب ہیں:

    الف: ہبہ کے معنی، موقعہ پر موجود دیگر حضرات تسلیم کرتے ہیں یا نہیں؟

    ب: مرحوم نے جس وقت یہ گھر ایک بیٹے کو ہبہ کیا تھا، اُس وقت مرحوم حالت صحت وتندرستی میں تھے یا مرض الوفات میں؟

    ج، د: ہبہ کے وقت مرحوم کا بیٹا اس گھر میں تنہا رہ رہا تھا یا مرحوم بھی اُس کے ساتھ اس گھر میں رہائش پذیر تھے؟ اور اگر مرحوم بھی رہائش پذیر تھے تو کیا آخر زندگی تک مرحوم اُسی میں رہتے رہے؟

    عن أبي أمامة قال: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول في خطبتہ عام حجة الوداع: ”إن اللہ قد أعطی کل ذي حق حقہ، فلا وصیة لوارث“ رواہ أبو داود وابن ماجة (مشکاة المصابیح، کتاب الوصایا، الفصل الثاني، ص: ۲۶۵، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔

    ولا لوارثہ ……إلابإجازة ورثتہ لقولہ علیہ الصلاة والسلام:” لا وصیة لوارث إلا أن یجیزھا الورثة“(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الوصایا،۱۰: ۳۴۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

    وشرائط صحتھا فی الموھوب أن یکون مقبوضاً إلخ (المصدر السابق، کتاب الھبة، ۸: ۴۸۹)۔

    وتتم الھبة بالقبض الکامل ولو الموھوب شاغلاً لملک الواھب لا مشغولا بہ، والأصل أن الموھوب إن مشغولاً بملک الواھب منع تمامھا وإن شاغلاً لا؛ فلو وھب جراباً فیہ طعام الواھب أو داراً فیھا متاعہ …وسلمھا کذلک لا تصح إلخ (المصدر السابق، کتاب الھبة ۸: ۴۹۳، ۴۹۴)۔

    وکما یکون للواھب الرجوع فیھا - أي: فی الھبة الفاسدة -یکون لوارثہ بعد موتہ؛ لکونھا مستحقة الرد (رد المحتار ۸: ۴۹۶)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند