• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 600274

    عنوان:

    مرحوم بھائی کی وراثت کی تقسیم

    سوال:

    میرے بھائی کا انتقال ہوگیاہے، اور ان کی کوئی اولاد نہیں ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ ان کے آفس کے سیٹلمنٹ میں جو گریجویٹی ، پی ایف فنڈ، انشورنس وغیرہ کی جو رقم بنتی ہے اس میں بھابھی ،والدہ اور بہن بھائیوں کا حصہ اگر بنتاہے تو کس حساب سے بنے گا؟

    براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 600274

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:98-68/N=3/1442

     صورت مسئولہ میں مرحوم کے آفس کے سیٹلمنٹ میں گریجویٹی، پی ایف اور انشورنس کی جو رقم بنتی ہے، وہ شرعاً مرحوم کا ترکہ ہے او ر وہ حسب شرع مرحوم کے جملہ وارثین میں تقسیم ہوگی؛ البتہ اگر مرحوم کسی پرائیویٹ ادارے کا ملازم تھا تو پی ایف میں سود کے نام پر جواضافی رقم ملائی گئی ہے، وہ ترکہ میں شامل نہ ہوگی؛ بلکہ بلا نیت ثواب غربا ومساکین کو دی جائے گی۔ اسی طرح اگر وہ کسی پرائیویٹ ادارے کا ملازم تھا اور اس کا انشورنس کسی دوسری پرائیویٹ یا سرکاری انشورنس کمپنی میں کیا گیا تھا یا وہ سرکاری ملازم تھا اور اس کا انشورنس ، کسی پرائیویٹ انشورنس کمپنی میں کیا گیا تھا تو انشورنس کی مد میں صرف اصل جمع کردہ رقم ترکہ میں شامل ہوگی اور زائد رقم بلا نیت ثواب غربا ومساکین کو دی جائے گی۔

    صورت مسئولہ میں مرحوم نے اگر اپنے وارثین میں صرف ایک بیوی، والدہ اور کچھ بھائی بہن چھوڑے ہیں تو بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کے ترکہ کا چوتھائی حصہ بیوہ کو اور چھٹا حصہ والدہ کو ملے گا اور پھر جو کچھ بچے گا، وہ بہن بھائیوں کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ بھائی کو بہن سے ڈبل حصہ دیا جائے گا، یعنی: اگر ۲/ بھائی اور ایک بہن ہو تو مابقیہ کو ۵/ حصوں میں تقسیم کرکے ہر بھائی کو ۲، ۲/ حصے اور بہن کو ایک حصہ ملے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند