• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 600170

    عنوان: مكان كی تعمیر میں تینوں بھائیوں نے كم وبیش پیسہ لگایا‏ تھا‏، وراثت كس طرح تقسیم ہوگی؟

    سوال:

    تفصیل یہ ہے کہ پہلے والد ہ کا انتقال ہوا، پھر بڑے بھائی کا انتقال ہوا اور پھر ابا کا انتقال ہوا، والدہ کے زیور کی قیمت 293000.00 روپئے ہے، والد صاحب نے وارثت میں 400000.00 نقد رقم اور ایک سو اسکوائر گز کا دو منزلہ مکان چھوڑا ہے جس کی موجودہ قیمت 5000000.00 روپئے ہے، مکان کی تعمیر پندرہ سال پرانی ہے، تعمیر کے وقت تینوں بھائیوں نے پیسے ابا کو دیئے تھے اور اس کا کوئی پیپر نہیں ہے، لیکن سب کو معلوم ہے اور سبھی گواہ ہیں، مرحوم بڑے بھائی نے 150000.00 روپئے دیئے تھے، دو سرے بھائی نے 150000.00 روپئے دیئے تھے، اور چھوٹے بھائی نے 500000.00 روپئے دیئے تھے، تقسیم میں دو بھائی اور تین بہنیں ہیں اور مرحوم بڑے بھائی کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹاہے، مرحوم والد صاحب کی امی، ابا، بہنیں اور بھائی نہیں ہیں۔ سب کی خواہش ہے کہ مکان کو نہیں بیچنا نہیں ہے۔

    براہ کرم، بتائیں کہ کس کو کتنا حصہ ملے گا ؟

    جواب نمبر: 600170

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 29-22/D=02/1442

     لڑکے عام طور پر والد کو جو رقم دیتے ہیں خواہ کسی شادی کے موقعہ پر یا زمین کی خریداری یا مکان کی تعمیر کے وقت وہ عرفا والد کا تعاون ہوتا ہے اور اس رقم کے مالک والد ہوجاتے ہیں، ہاں بطور قرض یا شرکت دینے کی صراحت کردی ہو یا اس کے صریح قرائن موجود ہوں تو پھر قرض یا شرکت مانا جائے گا، بشرطیکہ بطور قرض یا شرکت ہونے کا ثبوت ہو مثلاً کوئی تحریر ہو یا زبانی معاملہ ہونے کے گواہ ہوں یا دیگر ورثاء بطور قرض یا شرکت ہونے کو تسلیم کرتے ہوں۔

    اس تفصیل کی روشنی میں صورت مسئولہ میں یہ واضح کیا جائے کہ تینوں لڑکوں نے رقم کس طور پر دی تھی اگر تعاون اور ہبہ کے علاوہ کوئی اور مقصد رہا ہو تو اس کی صراحت کریں اور دیگر ورثا کے دستخط بھی کرالیں۔

    اگر وارثین کا حصہ وراثت معلوم کرنا ہوتو ہر ایک مرنے والے کا سن وفات اور اس کے ورثاء شرعی کے صراحت کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند