• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 600131

    عنوان:

    میت كی زندگی میں حصہ مل جانے کے بعد كیا وراثت میں بھی حصہ ہوگا ؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین؛میرے والد صاحب مرحوم کی دو بیویاں تھیں: پہلی بیوی سے دو اولاد اور دوسری بیوی سے چار اولاد لیکن پھلی بیوی کا خلع ہوگیا تھا والد صاحب نے پہلن کی اولاد کو اپنی زندگی ہی میں ہر ایک کو دوکان اور کچھ مال یہ کہہ کر دے دیا کہ آئندہ کچھ مطالبہ نہیں کرنا اور دوسری بیوی کی اولاد کو اس میں سے کچھ نہیں ملا اور انتقال کے وقت آپ ترکہ میں ایک گھر اور کچھ زیور چھوڑگئے ہیں۔

    اب سوال یہ ہے کہ اس ترکہ میں صرف دوسری بیوی کی اولاد کا حق ہے یاپہلی بیوی کی اولاد کو بھی حصہ دیا جائے جبکہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی ان کو حصہ دے دیا تھا۔ بینوا فلتوجروا

    جواب نمبر: 600131

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 89-17T/B=02/1442

     اپنی زندگی میں باپ نے اپنی پہلی بیوی کی اولاد کو جو کچھ دیا ہے وہ ہبہ اور عطیہ ہے میراث کا حق نہیں ہے۔ میراث کی تقسیم تو مرنے کے بعد ہوتی ہے۔ باپ نے اپنے انتقال کے وقت جو کچھ جائداد یا نقد وغیرہ چھوڑا ہے اس میں سب ہی اولاد کو حصہ دیا جائے گا خواہ وہ پہلی بیوی کی اولاد ہو یا دوسری بیوی کی اولاد ہو۔ والد صاحب نے جو کچھ حصہ پہلی بیوی کی اولاد کو دیا ہے وہ میراث نہیں ہے وہ ہبہ اور عطیہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند