• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 58931

    عنوان: اگر وارثین اسے تقسیم نہ کریں یا ایک وارث دوسرے کا حصہ غصب کرلے تو مرحوم بھی گناہگار ہوتا ہے ؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ وراثت مرحوم پر ایک قرض ہے ؟ اگر وارثین اسے تقسیم نہ کریں یا ایک وارث دوسرے کا حصہ غصب کرلے تو مرحوم بھی گناہگار ہوتا ہے ؟ اس سے متعلق کوئی حدیث ہو تو ضرور تحریر فرمائیں۔

    جواب نمبر: 58931

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 485-450/Sn=7/1436-U تقسیم وراثت کی ذمے داری ورثاء کی ہے، اکر ورثاء شرعی طریقے پر تقسیم نہ کریں یا کوئی وارث کسی کا حصہ غصب کرلے تو ایسا کرنے والے ورثاء گنہ گار ہوں گے، مرحوم مورث پر کوئی گناہ نہیں؛ البتہ اگر مورث کو اپنی زندگی میں یہ محسوس ہو کہ میرے ورثاء میراث کے سلسلے میں نزاع کریں گے یا بعض مثلاً بیٹے دوسرے مثلاً بیٹیوں کا حصہ غصب کرلیں گے تو مورث کے لیے بہتر ہے کہ اپنی زندگی ہی میں جائداد تقسیم کردے اور ہر ایک وارث کو اس کے حصے پر قابض ومتصرف بنادے۔ یا ورثاء کو تاکیدی وصیت کرکے جائے کہ میراث شریعت کے مطابق تقسیم کریں، بہتر ہے کہ ”وصیت نامے“ کو رجسٹرڈ کرادے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند