• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 56627

    عنوان: ہم تین بھائی ہیں اور والد صاحب ہیں ۔1992 میں ایک حادثے میں میرے بڑے بھائی کا انتقال ہوگیا، اس وقت میں اور میرے دوسرے بھائی پڑھائی کررہے تھے۔ بڑے بھائی کی اس ناگہانی موت سے ہم دونوں بھائیوں کو پڑھائی چھوڑ دینی پڑی، اور والد صاحب نے ہمیں کمپنی میں نفع میں برابر کے شریک بنا لیا ، اس وقت ہمارے پاس بہت زیادہ پیسے نہیں تھے، بھائی کے انتقال کے ایک سال کے بعد بیرون ملک سے ایک خریدار نے ہمیں آرڈر کیا کہ کیا آپ آرڈر پورا کرسکتے ہیں؟ہم نے ہاں کردیا، لیکن اس وقت ہمارے پاس پیسے نہیں تھے، اس نے ہمیں 10000 ڈالر ایڈوانس بھیج دیئے اور ہم نے سامان تیار کرنا شروع کردیا، اس کے بعد اس نے ہمیں ایک بڑا آرڈر کیا جس کو پورا کرنے کے لیے 1998 ہمیں بینک سے لون لینا پڑا ۔ اب الحمد للہ، ہم نے بینک سے لین دین بند کردیا ہے، اور ہمارے پاس اپنے پیسے ہیں۔

    سوال: ہم تین بھائی ہیں اور والد صاحب ہیں ۔1992 میں ایک حادثے میں میرے بڑے بھائی کا انتقال ہوگیا، اس وقت میں اور میرے دوسرے بھائی پڑھائی کررہے تھے۔ بڑے بھائی کی اس ناگہانی موت سے ہم دونوں بھائیوں کو پڑھائی چھوڑ دینی پڑی، اور والد صاحب نے ہمیں کمپنی میں نفع میں برابر کے شریک بنا لیا ، اس وقت ہمارے پاس بہت زیادہ پیسے نہیں تھے، بھائی کے انتقال کے ایک سال کے بعد بیرون ملک سے ایک خریدار نے ہمیں آرڈر کیا کہ کیا آپ آرڈر پورا کرسکتے ہیں؟ہم نے ہاں کردیا، لیکن اس وقت ہمارے پاس پیسے نہیں تھے، اس نے ہمیں 10000 ڈالر ایڈوانس بھیج دیئے اور ہم نے سامان تیار کرنا شروع کردیا، اس کے بعد اس نے ہمیں ایک بڑا آرڈر کیا جس کو پورا کرنے کے لیے 1998 ہمیں بینک سے لون لینا پڑا ۔ اب الحمد للہ، ہم نے بینک سے لین دین بند کردیا ہے، اور ہمارے پاس اپنے پیسے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کمپنی میں اپنے حصے کا مالک ہوں یا نہیں؟ کیوں کہ میں نے والد صاحب سے گذرش کی ہے کہ میں اپنا بزنس شروع کرنا چاہتاہوں، براہ کرم، اپنی فیملی کی کفالت اور خرچ کے لیے پیسے دیں تو والد صاحب نے کہا کہ جب تک میں زندہ ہوں تمہیں مجھ سے پیسے مانگنے کا کوئی حق نہیں ہے۔براہ کرم،واضح کریں کہ شریعت کیا کہتی ہے؟

    جواب نمبر: 56627

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 128-94/Sn+3/1436-U

    صورتِ مسئولہ سے متعلق کچھ امور وضاحت طلب ہیں؛ اس لیے درج ذیل باتوں کی مفصل وضاحت کرکے دوبارہ سوال کریں، پھر ان شاء اللہ جواب دیا جائے گا۔ (۱) آپ نے لکھا کہ والد صاحب نے ہمیں کمپنی کے نفع میں برابر کا شریک بنالیا، کیا یہ بات آپ کے والد صاحب اور آپ کے درمیان بشکل ایگریمنٹ طے ہوئی تھی؟ یا اس کی کچھ اور نوعیت تھی؟ (۲) اگر طے ہوئی تھی تو اب والد صاحب آپ کو منافع دینے سے انکار کیوں کررہے ہیں؟ اس سلسے میں ان کا کیا بیان ہے؟ منسلک کریں۔ (۳) سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ والد صاحب کے ساتھ کاروبار کرتے ایک لمبی مدت گزرگئی، کیا اس دوران والد صاحب نے کمپنی کا حساب کرکے کبھی آپ کو منافع کی رقم دی ہے؟ (۴) جس وقت آپ کو کمپنی میں لگایا تھا اس وقت آپ نے کمپنی میں کچھ ذاتی سرمایہ بھی لگایا تھا؟ یا سارا کا سارا کاروبار والد صاحب ہی کا تھا؟ (۵) کس چیز کا کاروبار ہے؟ اور اس کی نوعیت کیا ہے؟ (۶) والد صاحب کا یہ سلوک تنہا آپ کے ساتھ ہے یا دوسرے بیٹے کے ساتھ بھی؟ ہرہرنمبر کی الگ الگ وضاحت کرکے دوبارہ سوال ارسال کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند