• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 56158

    عنوان: تركے میں 4 بیٹے 4 بیٹیاں

    سوال: زید کی وفات ہوچکی تھی۔4 بیٹے 4 بیٹیاں چوڑ گیا۔تقسیم میراث ہو چکی۔4 بیٹوں میں ایک کا انتقال ہو گیا۔ اور ایک دماغی مریض ہے شادی نہیں کی۔ اب اس مریض بھائ کو وراثت میں ملی دولت کا کیا کرے ؟ کیا تمام بھائ بہنوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ۔ تو کس طرح اور مرا ہوا بھائ کی اولاداور بیوی کو مل سکتی ہے ؟ بالتفصیل مع حوالہ جواب مرحمت فرماکر ممنون و مشکور فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔

    جواب نمبر: 56158

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 19-35/L=1/1436-U دماغی کمزوری (جنون) ملکیت کے منافی نہیں ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں دماغی مریض بھائی کی دولت (زمین جائیداد نقد روپیہ وغیرہ) بھائی بہنوں میں تقسیم کرنا ہرگز جائز نہیں؛ بل کہ بھائیوں کی ذمہ داری ہے کہ پوری امانت داری کے ساتھ اس کی دولت کو محفوظ رکھیں اور حسب ضرورت اس پر خرچ کرتے رہیں، ہاں اس مریض بھائی کے انتقال کے بعد اس کے ورثاء میں شرعی اعتبار سے اس کی دولت تقسیم کی جائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند