• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 54838

    عنوان: احسان میں برابر كرنا

    سوال: میرے والد صاحب نے اپنی حیات میں اپنے گھریلو جائداد (جس میں وہ اپنے بچوں کے ساتھ رہتے تھے) کو اپنے اکلوتے بیٹے کے نام ٹرانسفر کردیا تھا، ہم دو بہنیں ہیں اور ایک بھائی۔ سوال یہ ہے کہ کیا والد صاحب اپنے گھریلو جائداد صرف اپنے بیٹے کے نام ٹرانسفر کرسکتے ہیں؟ کیوں کہ بیٹے کو اسی گھر میں رہنا ہے۔ (۲) اگر بہنیں رضامندی سے والد صاحب کی جائداد سے حصہ نہ لینا چاہیں بلکہ اپنے بھائی کو دینا چاہیں تو کیا اس کی اجازت ہے؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں ۔ ہمارے والد صاحب کاانتقاہوگیا ہے۔جزاک اللہ

    جواب نمبر: 54838

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1560-1292/B=10/1435-U والد صاحب کا بلاوجہ اپنی تمام جائداد صرف اپنے بیٹے کو دینا اور لڑکیوں کو کچھ نہ دینا یہ لڑکیوں کی حق تلفی ہے، یہ ہندوانہ طریقہ ہے، باپ کو چاہیے کہ اپنی کل جائداد تین برابر حصوں میں تقسیم کرکے ایک ایک حصہ تینوں اولاد کو دے کر انھیں مالک ومختار بنادے۔ باپ جب حالت حیات میں تقسیم کرے تو اس کے لیے افضل یہی ہے کہ اپنی سب اولاد کو لڑکا ہو یا لڑکی برابر برابر دے، حدیث شریف میں آیا ہے: سوّوا بَین أولادکم بالعطیة․ (۲) اگر بہنوں نے اپنا حصہ بھائی کے حق میں چھوڑدیا اور نہیں لیا مگر آئندہ بہنوں نے مطالبہ کیا تو پھر ان کا حصہ دینا ہوگا۔ لڑکیوں کو ان کا حصہ دینا چاہیے، اور ہندوانہ رواج کو ختم کرنا چاہیے، اللہ ہی نے باپ کی جائداد میں لڑکیوں کو بھی حق دار اور حصہ دار بنایا ہے، ہمیں قرآن پر عمل کرنا چاہیے، رسم ورواج پر نہ چلنا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند