• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 53683

    عنوان: میرے والد اپنی جائداد کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں جو ان کو اپنے والد (ہمارے دادا) سے ملی ہے ، اور اپنی تین شادی شدہ بیٹیوں کو چھوڑ کرصرف اپنے بیٹیوں کو دینا چاہتے ہیں

    سوال: میرے والد اپنی جائداد کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں جو ان کو اپنے والد (ہمارے دادا) سے ملی ہے ، اور اپنی تین شادی شدہ بیٹیوں کو چھوڑ کرصرف اپنے بیٹیوں کو دینا چاہتے ہیں ، جب بیٹیوں نے ان کو اسلامی حکم کے بارے میں بتایا تو کہتے ہیں کہ مجھے اپنی مرضی سے جائداد تقسیم کرنے کا خصوصی حق ہے، یہ کہہ کر ہنستے ہیں اور قرآن میں مذکور قانون وراثت کا مذاق اڑاتے ہیں ، وہ فخرسے کہتے ہیں کہ صرف میرے بیٹیوں کو جائداد کاحق ہے اور بیٹیوں کا کوئی آپشن نہیں ہے، ہاں ان کو تحفے کی شکل میں دیا جاسکتاہے جو جائداد کو ایک پرسینٹ ہوسکتاہے۔براہ کرم، اس طرح کی انصافی پر فتوی دیں۔

    جواب نمبر: 53683

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 982-195/D=9/1435-U وراثت کا حق لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لیے ہے والد کی وراثت میں صرف لڑکوں کا حق سمجھنا اور لڑکیوں کا نہ سمجھنا جہالت اور ناواقفیت کی بات ہے، قرآن میں دونوں کا حق وحصہ للذکر مثل حظ الانثیین کے ذریعہ بیان کیا گیا ہے، اس کا مذاق اڑانا یا انکار کرنا کفر کے درجہ کی چیز ہے جس سے توبہ استغفار کرنا چاہئے۔ لیکن وراثت کا حق (مثلاً والد) کے انتقال کے بعد ثابت ہوتا ہے، والد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اور املاک کے تنہا مالک ہیں ابھی اس میں نہ لڑکوں کا حصہ ثابت ہے نہ لڑکیوں کا۔ البتہ والد اگر زندگی ہی میں جائداد واملاک اولاد کو دینا چاہتے ہیں تو مستحب یہ ہے کہ اپنی ضرورت کے بقدر روک کر بقیہ جائیداد لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کرکے ہرایک کو اپنے حصہ کا مالک وقابض بنادیں کسی کی غربت یا دین داری کی بنا پر اسے کچھ زیادہ دینا چاہیں تو والد کو اس کا بھی اختیار ہے، مگر لڑکے لڑکیوں میں سے کسی کو بالکلیہ محروم کردینا یا بہت کم دینا سخت گناہ ہے، وراثت کے حصہ کے مطابق یعنی ہرلڑکے کو دو لڑکی کے حصہ کے برابر دیں اس کی گنجائش ہے لیکن لڑکیوں کو بالکلیہ محروم کردینا اور ساری جائیداد صرف لڑکوں کے درمیان تقسیم کرنا سخت گناہ ہے، حدیث میں اس پر شدید وعید آئی ہے۔ عن أنس رضي اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنة یوم القیامة (رواہ ابن ماجہ مشکاة ۲۶۶) یعنی جس شخص نے اپنے کسی وارث کے حصہ میراث کو ختم کیا (مثلاً دوسروں کو دے کر اسے محروم کردیا) اللہ تعالیٰ کل قیامت کے دن جنت سے اس کا حصہ ختم کردیں گے، یعنی جنت میں داخلہ سے محروم کردیا جائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند