• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 49800

    عنوان: کیا کوئی وصیت نہ ہونے کی شکل میں ہم بھائی اور بہن ” اس زمین میں حقدار بنتے ہیں“

    سوال: میرے والد صاحب نے کئی ساری زمینیں خرید ی تھیں، جنہیں بوقت ضرورت انہوں نے بیچ دی تھیں ، لیکن ایک زمین جو میری والدہ کے نام سے خریدی تھی اسے انہوں نے کبھی نہیں بیچی جب ان سے اس کو بیچنے کے لیے کہا جاتا تو کہتے تھے کہ میں اس میں سے 50-50 گز اپنی بیٹیوں کو دوں گا۔ اب ان کا انتقال ہوچکا ہے، وفات سے پہلے انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی ہے، میرا سوال ہے کہ کیا کوئی وصیت نہ ہونے کی شکل میں ہم بھائی اور بہن ” اس زمین میں حقدار بنتے ہیں“ (ہم دو بھائی اور تین بہن ہیں)میری والدہ حیات ہیں ، اس زمین کے علاوہ بھی ایک پشتینی مکان ہے۔ سوال صرف اس زمین سے متعلق ہے۔

    جواب نمبر: 49800

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 215-178/H=2/1435-U ظاہر یہ ہے کہ والدہ کا نام صرف کاغذات میں ڈلوادیا تھا اورحقیقةً والدِ مرحوم نے زمین کواپنی ملکیت میں ہی رکھا تھا اگر ایسا ہی ہے تو اب حکم یہ ہے کہ وہ زمین والد مرحوم کی وفات پر مرحوم کا ترکہ بن گئی جو تمام ورثہ پر علی قدر حصصہم تقسیم ہوگی یعنی بعد ادائے حقوق متقدمہ علی المیراث وصحت تفصیل ورثہ مذکورہ زمین (اور اس کے علاوہ والد مرحوم کا چھوڑا ہوا کل مال متروکہ بھی) آٹھ حصوں پر تقسیم کرکے ایک حصہ مرحوم کی بیوی کو اور ایک ایک حصہ تینوں بیٹیوں کو ملے گا اور دو دو حصے دونوں بیٹوں کو ملیں گے۔ پچاس پچاس بیٹیوں کو دینے کو والد مرحوم نے صرف کہا تھا اب اس قول کی وجہ سے بیٹیوں گو پچاس پچاس گز زمین نہ ملے گی، البتہ اس زمین میں سے اپنے حصہٴ شرعیہ سے وہ محروم نہ ہوں گی۔ مسئلہ: ۸ بیوی=۱ بیٹا=۲ بیٹا=۲ بیٹی=۱ بیٹی=۱ بیٹی=۱


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند