• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 46741

    عنوان: وراثت

    سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان دین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں: مسئلہ: ایک شخص انتقال کرگیا، انتقال کے بعد ایک بیوہ ، آٹھ بیٹے اور ایک بیٹی پیچھے چھوڑے ، پھر کچھ عرصہ بعد بیوی کا بھی انتقال ہوا۔ اب یہی آٹھ بیٹے اور ایک بیٹی وارث ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان آٹھ بیٹوں میں جو سب سے بڑا بیٹا ہے اس کو باپ نے اپنی زندگی میں ایک پلاٹ دیا تھا اور اس کو کہا تھا کہ میرے مال میں آپ کا اور کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اس پلاٹ پر اس (بڑے بیٹے ) نے مکان بنایا جس میں اب رہائش پذیر ہے ۔ باقی سات بیٹے اپنے بڑے بھائی کو کہتے ہیں کہ والد کے مال میں آپ کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ جبکہ بڑا بیٹا کہتا ہے کہ باپ کے مال میں میرا حصہ ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ پلاٹ اس نے اپنے والد سے قیمتاً خریدا تھا۔درج بالا مسئلہ کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جواب مطلوب ہیں: (۱) اگر بڑے بیٹے کا اپنے والد کے مال میں حصہ ہو تو آٹھ بیٹوں اور ایک بیٹی کا شریعت کے موافق کیا حصہ بنے گا؟ (۲) اگر بڑے بیٹے کا حصہ نہ ہو تو سات بیٹوں اور ایک بیٹی کا کیا حصہ بنے گا؟

    جواب نمبر: 46741

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1852-1345/H=1/1435-U بڑے بیٹے کو زندگی میں جس طرح پلاٹ دیا تھا اسی طرح اگر بقیہ سات بیٹوں اور بیٹیوں کو دیدیتے اور آٹھوں کو برابر برابر دیدیتے تو بہتر ہوتا،اب بڑے بیٹے کو جو کچھ دیدیا وہ تو ہبہ کے حکم میں ہے،اورجب اس پلاٹ پر اس کا قبضہ ہوگیا تو وہی بڑا بیٹا اس پلاٹ کا مالک ہوگیا اور اس کی وجہ سے باپ مرحوم نے جو کچھ بھی بوقت وفات چھوڑا ہے، اس میں وہ بڑا بیٹا بھی اپنے حصہٴ شرعیہ کا حق دار ہے اور چونکہ شخص مرحوم کی بیوہ بھی اب وفات پاگئی ہیں تو اب دونوں مرحومان کا کل ترکہ بعد ادائے حقوق متقدمہ علی المیراث سترہ حصوں پر تقسیم کرکے دو دو حصے آٹھ بیٹوں کو ملیں گے اور ایک حصہ بیٹی کو ملے گا، یہ حکم اس وقت ہے کہ شخص مرحوم کی بیوہ مرحومہ تمام اولاد (آٹھ بیٹے اور ایک بیٹی) کی حقیقی ماں ہو، اگر اس کے خلاف ہو تو سوال دوبارہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند