• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 43186

    عنوان: تقسیم وراثت

    سوال: ایک شخص ہے اسکی اہلیہ بھی حیات ہے اسکے ۶ لڑکے اور ۱ لڑکی ہے ، یہ شخص اپنی حیات میں اپنی لڑکی کو اپنی جائیداد میں حصّہ دینا چاہتا ہے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے کہ اپنی حیات میں انسان صرف لڑکی کو حصّہ دے دے اور لڑکوں کو نہ دے؟ اگر جائز ہے تو یہ بتائیں کہ لڑکی کا کتنا حصّہ ہوگا ؟اس شخص کے پاس کھیتی کی ۱۶ بگھا زمین ہے اور رہائش کی پونے ۱ بیگھا زمین ہے جس میں چند مکانات بنے ہوئے ہیں۔ برائے مہربانی پورا مسئلہ سمجھائیں۔

    جواب نمبر: 43186

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 199-153/B=2/1434 جب تک باپ حیات ہے وہ اپنی تمام جائداد اور دکان کا تنہا مالک ومختار ہے، ابھی اولاد میں سے کسی کا کوئی حق اور حصہ باپ کی جائداد میں نہیں ہے۔ باپ کے مرنے کے بعد اولاد حصہ دار ہوتی ہے۔ ابھی حالت حیات میں اپنی اولاد کو باپ اگر کچھ دینا چاہتا ہے تو یہ عطیہ و ہبہ اور بخشش ہے، یہ میراث کی تقسیم نہیں ہے۔ اور عطیہ میں اپنی تمام اولاد و برابر تقسیم کرنا چاہیے، یہ افضل ہے، حدیث شریف میں آیا ہے سَوُّوْا بین اَولادِکم في العطیة یعنی ہبہ اور عطیہ دینے میں تمام اولاد کے درمیان برابری اختیار کی جائے، بلاوجہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دینے سے احتراز چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند