• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 41629

    عنوان: وراثت

    سوال: (۱) میرے ماما کا انتقال ہوا اہل عیال میں بیوہ کے علاوہ انکی والدہ اور ۴ بھائی جن میں ۱ کا انتقال پہلے ہی گیا ہے، اور4 بہنیں ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ انکو بنک کا قرض تھا جسکو انہو ں نے ادا نہیں کیا اب وہ قرض کون ادا کرے گا ؟ (۲) اور انکی وراثت میں ۱ مکان اور ۱ کار ہے، اس کو کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟ براہ کرم، جواب دیں ۔ (۳) اور ایک بات یہ کہ انکی اہلیہ یہ قرض ماما کو نہیں ہے کہہ رہی ہیں اور خاندان والے کہہ رہے ہیں کہ قرضہ ہے اور یقیناًقرضہ موجود ہے۔ (۴) اگر یہ قرضہ ادا نہ کیا جائے تو ماما کو عذاب قبر ہوگا کیا؟

    جواب نمبر: 41629

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 906-901/N=10/1433 (۱) تجہیز وتکفین وغیرہ کے اخراجات منہا کرنے کے بعد مرحوم کے ترکہ سے سب سے پہلے مرحوم کا قرضہ ادا کیا جائے گا، قرضہ کی ادائیگی سے پہلے نہ وصیت کی تنفیذ ہوگی -اگر مرحوم نے کسی کے لیے کوئی مالی وصیت کی ہے- اور نہ میراث کی تقسیم۔ عن علي رضي اللہ عنہ قال: إنکم تقروٴون ہذہ الآیة: ”مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِہَا اَوْ دَیْنٍ “ وإن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضی بالدین قبل الوصیة․․․ رواہ الترمذي وابن ماجہ (مشکاة شریف باب الفرائض الفصل الثاني: ص۲۶۳، ۲۶۴) (۲) صورت مسئول عنہا میں مرحوم کے ترکہ سے حقوق متقدمہ علی الارث کی ادائیگی کے بعد باقی ماندہ ترکہ کا چوتھائی مرحوم کی اہلیہ کو اور چھٹا حصہ مرحوم کی والدہ کو دیا جائے گا، پھر جو کچھ بچے گا وہ مرحوم کے بھائی بہنوں کے درمیان للذکر مثل حظ الانثیین کے مطابق تقسیم ہوگا یعنی: ہربھائی کو بہن سے ڈبل دیا جائے گا۔ (۳) اگر قرضہ کا پختہ ثبوت موجود ہے تو بیوہ کے انکار کی بنیاد کیا ہے؟ تحریر کریں پھر ان شاء اللہ اس کا جواب تحریر کیا جائے گا۔ (۴) قرضہ کی مقدار اگر تجہیز وتکفین وغیرہ کے اخراجات منہا کرنے کے بعد باقی ماندہ ترکہ کی مالیت سے زیادہ نہیں ہے تو قرضہ ادا نہ کرنے کی صورت میں گناہ صرف مرحوم کے پسماندگان کو ہوگا، مرحوم کو کچھ گناہ یا عذاب نہ ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند