• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 40029

    عنوان: وراثت سے متعلق

    سوال: میرے والد صاحب کا نومبر میں انتقال ہوگیاہے، والد صاحب کا بنایا ہوا گھر جس میں وہ خود اور چھوٹا بھائی رہتا تھا،اسے والد صاحب نے 2005/ میں چھوٹے بھائی کے نام کردیا ، مجھے اس کا علم نہیں تھا اور نہ ہی کسی نے ذکر کیا یہاں تک کہ میری والدہ صاحبہ نے عمرہ بھی کرکے گئیں، میں چونکہ جدہ میں کام کرتاہوں، لہذا میں عمرہ کے دوران اور مدینہ شریف میں بھی ان کے ساتھ رہا ، مگرانہوں نے بھی کوئی ذکر نہیں کیا ، والد صاحب کی وفات پر جب میں پاکستان گیا تو ایک جاننے والے نے بتایا کہ بزرگ بہت اچھے انسان تھے مگر یہ کام جو انہوں نے کیا اچھا نہیں ہے۔ 2005/ سے 2011/ تک گھر کے کسی فرد نے اس چیز کا ذکر نہیں کیا ۔ اب میں پریشان ہوں ، مجھے حصہ نہیں چاہئے تھا اگر مجھے بتا کر یہ کام کیا جاتا۔ میرا اپنا بناہوا گھر اللہ کے فضل سے مومود ہے، لیکن کیا یہ بے ایمانی نہیں ہے؟ کیا اب میں اس میں سے حصہ لے سکتاہوں؟

    جواب نمبر: 40029

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1204-1204/M=8/1433 اگر والد صاحب نے مکان چھوٹے بھائی کے نام کرکے زندگی ہی میں اس کے حوالے کردیا تھا اور خود اس سے لاتعلق اور دستبردار ہوگئے تھے تب تو وہ مکان چھوٹے بھائی کی تنہا ملکیت ہوگئی، اس میں آپ کا حصہ نہیں، اگرچہ والد صاحب نے یہ ناانصافی کی کہ پورا مکان صرف چھوٹے بھائی کو دیدا اور آپکو محروم کردیا، اور اگر والد صاحب نے زندگی میں چھوٹے بھائی کو دے کر مالک وقابض نہیں بنایا تھا بلکہ اپنا قبضہ برقرار رکہا تھا تو صرف نام کرنے سے چھوٹے بھائی کی ملک نہ ہوگی، بلکہ وہ گھر والد صاحب کا ترکہ کہلائے گا، اس میں آپ کا بھی حصہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند