• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 39796

    عنوان: والد کی وصیت

    سوال: میرے والد کا انتقال ۱۹۹۹ میں ہوا ور انکی وفات کے بعد ان کے سامان میں سے ایک کاغذ پر انکے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک وصیت نامہ ملا جس میں انہوں نے اللہ کو حاضر نظر جان کر شریعت کے مطابق اپنی جائداد کو اپنے تمام بچوں میں برابر برابر تقسیم کیا، مگر اب میرے بڑے بھائی نے باوجود اس کے کہ وہ اس وصیت کو جھٹلاتے نہیں مگر اس پر عمل نہیں کیا ور اپنی مرضی کے حساب سے ساری جائداد تقسیم کی ور خود اپنی مرضی سے حصہ لیا ور بحیثیت چھوٹا مجھے برابر حصہ نہ دیا۔ براہ کر م، رہنمائی فرمائیں کہ ان کے اس عمل سے وہ کس گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں ور اس گناہ کا کفّارہ کیا ہے؟ مزیدیہ کہ اگر وہ ایسا جاری رکھتے ہیں تو پھر ان کی کیا سزا ہو گی اللہ کی بارگاہ میں۔

    جواب نمبر: 39796

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1157-545/D=7/1433 انتقال سے پہلے والد صاحب نے اپنے ورثاء کے لیے جو وصیت کی ہے وہ شرعاً معتبر نہیں ہے، البتہ وصیت نامہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ والد صاحب اپنی مملوکہ جائداد کو ورثاء کے مابین شرعی طریقے کے مطابق تقسیم کرنے کی تاکید کرنا چاہتے تھے، بہرحال والد صاحب اس کی وصیت کرتے یا نہ کرتے اب ان کے انتقال کے بعد ان کے ترکے کو ورثاء کے مابین حصص شرعیہ کے مطابق تقسیم کرنا ضروری ہے، اگر کوئی وارث اپنا حصہ شرعی حصہ سے زیادہ وصول کرتا ہے تو وہ سخت گناہ گار ہوگا اور اس کو غاصب قرار دیا جائے گا اور غاصب کے بارے میں جو وعیدیں وارد ہوئی ہیں ان کا وہ مستحق بنے گا۔ وَلاَ تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ (البقرہ: ۱۸۸)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند