• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 36759

    عنوان: سرکاری عربی مدارس میں ملازمت

    سوال: سرکاری عربی مدارس میں ملازمت کے سلسلے میں آپ کی رائے مطلوب ہے۔ واضح رہے کہ ان مدارمیں ملازمت کے لیے رشوت لیا جاتاہے اور حصول ملازمت کے لیے کمیٹی بطور ڈونیش (چندہ ) ایک موٹی رقم مانگتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ رشوت ہے یا ڈونیشن؟چونکہ بغیر ڈونیشن کے ملازمت نہیں دی جاتی ہے،خواہ ملازمت کے متلاشی اتنی رقم دے دینے کی استطاعت رکھے یا نہ رکھے ۔ عام طورپر یہ ہوتاہے کہ اگر کسی کے اندر پیسہ دینے کی استطاعت ہوتی ہے اور علمی صلاحیت کچھ نہ تو مطلوبہ رقم دینے پر اس کو ملازمت دیدی جاتی ہے اور علم کو نظر انداز کردیا جاتاہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ڈونیشن دینا جائز ہے؟اگر جائز ہے تو کیا اس ملازمت سے حاصل ہونی والی کمائی جائز ہوگی یا نہیں؟ نیز دیگر سرکاری محکموں جہاں پیسہ دینے پر ملازمت ملتی ہے ، کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟ (۲) تقسیم جائداد کے سلسلے میں سوال ہے۔زید نے شادی کی اور اس کی اولاد ہوئی ، بیٹے اور بیٹیاں۔ کچھ سالوں کے بعد اس کی بیوی کا انتقال ہوگیا۔ زید نے پھر دوسری شادی کی اور اس سے بھی اولاد ہوئی ․․ بیٹے اور بیٹی ․․․۔ اب زید کا انتقال ہوجاتاہے اور جائداد تقسیم ہونی ہے ، زندہ بیوی کو ۱/۸ حصہ ملتاہے اور ہر بیٹے و بیٹی کو حصہ ملتاہے جو دو حصے اور ایک حصہ کا حساب ہوتاہے۔ کچھ دنوں کے بعد دوسر ی زوجہ کا بھی انتقال ہوجاتاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پہلی بیوی کی اولاد کو دوسری بیوی کے حصہ ۱/۸ میں کوئی حصہ ملے گا ؟

    جواب نمبر: 36759

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 345=190-3/1433 (۱) ڈونیشن کے عنوان سے رقم کا لین دین رشوت کے حکم میں ہے، جس کا لینا دینا حرام ہے اگر دونیشن دے کر ملازمت حاصل کرلی اور کارہائے مفوضہ صحیح انجام دیتا ہے تو اس سے حاصل شدہ تنخواہ پر حرام ہونے کا حکم نہیں ہے۔ (۲) دوسری بیوی مرحومہ کے ترکہ میں پہلی بیوی مرحومہ کے بطن سے پیدا شدہ اولادِ زید مرحوم کا کچھ حق وحصہ نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند