• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 35098

    عنوان: وراثت

    سوال: میں ریٹائرڈ سرکاری افسر ہوں۔ جسمانی طورپر کمزور ہوں اور بہت سی بیماری میں مبتلاہوں ۔ میرے چار بچے ہیں، تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ (۱) بڑے بیٹے کی شادی ہوچکی ہے اور وہ اپنی بیوی بچوں سمیت میرے ساتھ رہتاہے ۔ (۲) دوسرے بیٹے کی بھی شادی ہوچکی تھی اور اس کا ایک بچہ ہے ۔ کچھ دنوں پہلے اس کا انتقال ہوگیا ہے۔ شوہر کے انتقال کے بعد اس کی بیوی کچھ دنوں تک ہمارے ساتھ رہی ۔ اب گذشتہ آٹھ سالوں سے وہ اپنے میکے میں رہ رہی ہے، پی ایف اور دوسرے سیونگ اس کو دیدئے گئے ہیں۔ (۳) تیسرابیٹا بھی شادی شدہ ہے اور وہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ میرے پاس رہتاہے۔ (۴) لڑکی کو طلاق ہوگئی ہے اور اپنی چار سالہ بیٹی کے ساتھ میرے پاس رہتی ہے ۔ بچوں کے علاوہ سبھی روزگار سے جڑے ہوئے ہیں۔ میں زمین اور دوسری جائداد کو تقسیم کرنا چاہوں گا۔ شریعت کے مطابق میں اسے کیسے تقسیم کروں اور کس کو کتنا حصہ ملے گا؟ براہ کرم، تفصیل سے جواب دیں۔

    جواب نمبر: 35098

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 2209=1275-11/1432 جس بیٹے مرحوم کا انتقال ہوگیا ہے، اس کے بچہ (پوتہ یا پوتی) کو بھی مناسب مصلحت دیدیں، اگر اپنے لیے کچھ جائداد وغیرہ مختص کرکے رکھنا مناسب سمجھتے ہوں تو اس کو اپنی ملکیت اور قبضہ میں رکھیں اور بقیہ کو تین حصوں پر تقسیم کرکے موجودہ تینوں اولاد کو برابر برابر ایک ایک حصہ دیدیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند