• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 3227

    عنوان:

    میں وصیت کرنا چاہتاہوں ۔ میر ی ایک بیوی ، تین بیٹیاں (۱۳،۱۷،۱۹) اور ایک بیٹے (۸) ہیں ، میرے دو پلاٹ ، دو دکانیں اور کچھ کیش ہیں۔ وصیت کرنے کی کیا صورت ہوگی؟ (۲) کچھ سال قبل میرے والدین کا انتقال ہوگیاہے، ہماری چاربہنیں ، تین بھائی ( ماں کے انتقال کے وقت دو بڑی بہنیں زندہ تھیں، اب دونوں نہیں ہیں، دسمبر ۲۰۰۵میں انتقال ہواہے) سبھی بہنیں شادی شدہ ہیں۔ میرے والدین نے ورثہ میں کچھ سونا، ایک مکان، ایک پلاٹ اور کچھ رقم چھوڑے ہیں۔ براہ کرم، بتائیں کہ ان کو کیسے تقسیم کریں۔

    سوال:

    میں وصیت کرنا چاہتاہوں ۔ میر ی ایک بیوی ، تین بیٹیاں (۱۳،۱۷،۱۹) اور ایک بیٹے (۸) ہیں ، میرے دو پلاٹ ، دو دکانیں اور کچھ کیش ہیں۔ وصیت کرنے کی کیا صورت ہوگی؟ (۲) کچھ سال قبل میرے والدین کا انتقال ہوگیاہے، ہماری چاربہنیں ، تین بھائی ( ماں کے انتقال کے وقت دو بڑی بہنیں زندہ تھیں، اب دونوں نہیں ہیں، دسمبر ۲۰۰۵میں انتقال ہواہے) سبھی بہنیں شادی شدہ ہیں۔ میرے والدین نے ورثہ میں کچھ سونا، ایک مکان، ایک پلاٹ اور کچھ رقم چھوڑے ہیں۔ براہ کرم، بتائیں کہ ان کو کیسے تقسیم کریں۔

    جواب نمبر: 3227

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 460/ ھ= 349/ ھ

     

    (۱) مالی وصیت ورثہْ شرعی (بیوی واولاد وغیرہ) کے حق میں نافذ نہیں ہوتی بلکہ وارثِ شرعی اپنے حصہٴ شرعیہ ہی کا حق دار میراث سے ہوتا ہے پس ان ورثہ کے علاوہ اپنے ذاتی مال جو کچھ اور وصیت کرنا چاہتے ہوں اس کو تفصیل سے لکھئے اس کے بعد ان شاء اللہ شرعی حکم لکھ دیا جائے گا۔

    (۲) آپکے والدین مرحومین اوردونوں بہن مرحومین سب کے انتقال کی ترتیب لکھئے اور ہروفات پانے والے کے ساتھ اس کے ورثہٴ شرعی کی تفصیل نام بنام لکھئے تب جواب لکھا جاسکتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند