• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 31444

    عنوان: وراثت

    سوال: میری خالہ کے شوہر جنکا انتقال ہو چکا ہے انکے شوہر اور شوہر کے بہن بھایوں چار بھائ چاربہن کے درمیان معاہدہ ہوا تھا کہ باپ کی جائداد گھرکوچار بھائوں کے نام کروا کرہر بھائ ایک بہن کو ایک حصہ دےگا.میری خالاکا کہنا ہے کہ خالا کے شوہرانتقال کے بعد کیا وہ معاہدہ پورا کرنا ضروری ہے کہ شوہر کی ایک بہن کو حصہ دوں جبکہ دو چھوٹی بچیاں اور ایک چھوٹا بچہ ہے انکی پرورش کرنی ہے- خالا کی ساس اپنی بیٹی کیلیے حصہ مانگ رہی ہیں-میرے مرحوم خالو کے والد کا انتقال بہت سال پہلے ہو چکا-مرحوم خالو کی والدہ ابھی حیات ہیں-والدہ,دوبچیاں اور ایک بچہ چھوڑا تھا- بچوں کے نام اور عمرہیں- تہنیت 7 سال - رائہا 6 سال - عاظم 2 سال

    جواب نمبر: 31444

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 814=456-5/1432 خالہ کے شوہر کے والد کا ترکہ اگر باہمی معاہدہ سے تقسیم ہوگیا تھا اور شوہر اور اس کے بھائیوں کے ساتھ حصہ میں ان کی ایک ایک بہن بھی شریک کردی گئی تھیں تو شوہر کو ملنے والے حصہ میں ان کی ایک بہن بھی شریک ہیں، خالہ کے شوہر کے انتقال کرجانے کی وجہ سے اس کی بہن کا حصہ سوخت نہیں ہوگا؛ بلکہ وہ برقرار رہے گا، لہٰذا آپ کی خالہ کی بات درست نہیں ہے، ان کے بچوں کا حصہ اس جائیداد میں بنتا ہے جس کے مالک تنہا ان کے شوہر رہے ہوں، بہن کو تو اپنے والد کا حصہ ملا ہے تو اسے بہرحال ملنا چاہیے، شوہر کے انتقال سے وہ ختم نہیں ہوگا۔ پس خالہ کی ساس کا مطالبہ جائز اور درست ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند