• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 31097

    عنوان: ایک شخص نے اپنی موروثی جائداد (مکان کی صورت میں)اپنی حیات میں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم کردی ، ان میں سے ایک بیٹے نے اپنی بہن کی جائداد (مکان)پر قبضہ کرلیا، حالاں کہ اسے اس کا حصہ مل چکاتھا ، کیا اس لڑکے کا ایسا کرنا جائز ہے؟اور قران وسنت کی رو سے یہ بتائیں کہ ایسے شخص پر کیا وعید (سزا) ہے دنیامیں اور آخرت میں ؟

    سوال: ایک شخص نے اپنی موروثی جائداد (مکان کی صورت میں)اپنی حیات میں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم کردی ، ان میں سے ایک بیٹے نے اپنی بہن کی جائداد (مکان)پر قبضہ کرلیا، حالاں کہ اسے اس کا حصہ مل چکاتھا ، کیا اس لڑکے کا ایسا کرنا جائز ہے؟اور قران وسنت کی رو سے یہ بتائیں کہ ایسے شخص پر کیا وعید (سزا) ہے دنیامیں اور آخرت میں ؟

    جواب نمبر: 31097

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ):690=451-4/1432 غاصبانہ قبضہ کا حرام وگناہ بلکہ موجب عذاب ووبال دنیا اور آخرت ہونا ظاہر ہے، البتہ اگر وہ لڑکا کوئی وجہ بتلاتا ہو تو اس کو صاف واضح لکھ کر سوال دوبارہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند