• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 2837

    عنوان:

    میرے نانا اور نانی کا انتقال ہوچکاہے، اور اب تین سال پہلے میری والدہ کا بھی انتقال ہوگیاہے۔ والد کا ہم نے دوسرا نکاح کروادیاتھا۔ اب سوال یہ ہے کہ ناناکی وراثت میں ہمارا حصہ ہوگایا نہیں کیونکہ والدہ کا انتقال نانا ، نانی کے انتقال کے بعد ہواہے۔

    سوال:

    میرے نانا اور نانی کا انتقال ہوچکاہے، اور اب تین سال پہلے میری والدہ کا بھی انتقال ہوگیاہے۔ والد کا ہم نے دوسرا نکاح کروادیاتھا۔ اب سوال یہ ہے کہ ناناکی وراثت میں ہمارا حصہ ہوگایا نہیں کیونکہ والدہ کا انتقال نانا ، نانی کے انتقال کے بعد ہواہے۔

    جواب نمبر: 2837

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 97/ ل= 98/ ل

     

    اگر آپ کی والدہ کی وفات آپ کے نانا نانی کی وفات کے بعد ہوئی ہے توآپ کی والدہ کا بھی آپ کے نانا نانی کے ترکہ سے حصہ ہوگا اور آپ کی والدہ کے واسطے سے آپ اور آپ کے والد کا بھی اس میں حصہ ہوگا۔ اگر آپ کے ماموں اسی طرح اگرنانا نانی کے والدین میں سے ان کی وفات کے وقت کوئی زندہ رہا ہو اور آپ اپنے بھائی بہنوں کی تفصیل لکھ کر بھیجیں تو ان شاء اللہ حسب حصص شرعیہ تقسیم کردی جائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند