• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 28292

    عنوان: 1980/ میں میرے والد نے اپنے پیسے سے دس ایکڑ زمین خردید تھی اور میرے دادا کو انہوں نے زمین کا مالک بنادیا۔ میرے داد ا نے وہ زمین مجھے اور میرے بھائی کو 1995/میں تحفہ میں دیدی، میں اس وقت پندرہ سال کا تھا اوربھائی کی عمر ٹھارہ سال کی تھی۔ ہم دونوں بھائی زمین کے مالک ہوگئے۔ زمین کی اس منتقلی سے میرے والد بھی متفق ہوگئے تھے۔ 1997/ میں دادا کا انتقال ہوگیا ۔ میں نے کسی کو کہتے ہوئے سنا کہ کوئی اپنے پوتوں کو زمین ہبہ یا تحفہ میں نہیں سکتے ہیں جب کہ اس کے بیٹے حیات ہوں؟ (سورة نساء اور سورة بقرہ کے مطابق)۔
    کیا شریعت ک روشنی میں صرف ہم دونوں بھائی اس زمین کے مالک ہوسکتے ہیں؟کیا یہ زمین مکمل طورپر ہماری ہوگی ؟اگر نہیں تو اس زمین کے ساتھ کیا کریں؟میرے والد اور ن کی ایک بہن حیات ہیں، ان کی دوسری بہن کا چار سال پہلے انتقال ہوگیاہے۔ 

    سوال: 1980/ میں میرے والد نے اپنے پیسے سے دس ایکڑ زمین خردید تھی اور میرے دادا کو انہوں نے زمین کا مالک بنادیا۔ میرے داد ا نے وہ زمین مجھے اور میرے بھائی کو 1995/میں تحفہ میں دیدی، میں اس وقت پندرہ سال کا تھا اوربھائی کی عمر ٹھارہ سال کی تھی۔ ہم دونوں بھائی زمین کے مالک ہوگئے۔ زمین کی اس منتقلی سے میرے والد بھی متفق ہوگئے تھے۔ 1997/ میں دادا کا انتقال ہوگیا ۔ میں نے کسی کو کہتے ہوئے سنا کہ کوئی اپنے پوتوں کو زمین ہبہ یا تحفہ میں نہیں سکتے ہیں جب کہ اس کے بیٹے حیات ہوں؟ (سورة نساء اور سورة بقرہ کے مطابق)۔
    کیا شریعت ک روشنی میں صرف ہم دونوں بھائی اس زمین کے مالک ہوسکتے ہیں؟کیا یہ زمین مکمل طورپر ہماری ہوگی ؟اگر نہیں تو اس زمین کے ساتھ کیا کریں؟میرے والد اور ن کی ایک بہن حیات ہیں، ان کی دوسری بہن کا چار سال پہلے انتقال ہوگیاہے۔ 

    جواب نمبر: 28292

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 63=41-1/1432

    دادا کی طرف سے پوتوں کی زمین وغیرہ ہبہ کیاجانا شرعاً منع نہیں ہے، البتہ ہبہ کے لیے ضروری شرط یہ ہے کہ صرف زبانی طور پر کہنا نہ پایا گیا ہو بلکہ عملی طور پر موہوب لہ کو قبضہ تام دیدیا گیا ہو لہٰذا آپ کے دادا نے اگر آپ دونوں پوتوں کو حصہ الگ الگ کرکے قبضہ دخل بھی دیدیا تھا تو آپ لوگ مالک ہوگئے۔ اور اگر قبضہ دخل الگ الگ نہیں کرایا تھا جب کہ آپ دونوں بالغ بھی تھے تو ایسی صورت میں ہبہ مکمل نہیں ہوا، اور زمین بدستور دادا مرحوم کی باقی رہی جو ان کے ورثہٴ شرعی کے درمیان حصہٴ شرعی کے مطابق تقسیم ہوگی، دادا کے ورثہٴ شرعی کون کون لوگ تھے ان کی بیوی، لڑکے اور لڑکیاں سب کی تفصیل لکھ کر حکم شرعی معلوم کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند