• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 27324

    عنوان: ایک شخص کے ۶/ بیٹے ہیں اس کی وفات ہوگئی، اس کے ترکے میں کچھ دو کانیں ہیں اس کے تین بیٹے دس سال سے کام کررہے ہیں اور ۳/ فارغ رہے، اب دس سالکے بعد وہ اس ترکے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں کیسے تقسیم کریں گے؟ آیا والد کی وفات کے وقت جو جائداد تھی وہ ہی تقسیم ہوگی یا پھر دس سال کے بعد جو جائداد ہے وہ یعنی کہ جو ۳/ بیٹے فارغ رہے وہ ان (بقیہ ۳/ بیٹوں) کی کمائی میں شریک ہوں گے کہ نہیں؟

    سوال: ایک شخص کے ۶/ بیٹے ہیں اس کی وفات ہوگئی، اس کے ترکے میں کچھ دو کانیں ہیں اس کے تین بیٹے دس سال سے کام کررہے ہیں اور ۳/ فارغ رہے، اب دس سالکے بعد وہ اس ترکے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں کیسے تقسیم کریں گے؟ آیا والد کی وفات کے وقت جو جائداد تھی وہ ہی تقسیم ہوگی یا پھر دس سال کے بعد جو جائداد ہے وہ یعنی کہ جو ۳/ بیٹے فارغ رہے وہ ان (بقیہ ۳/ بیٹوں) کی کمائی میں شریک ہوں گے کہ نہیں؟

    جواب نمبر: 27324

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ)2659=1043-11/1431

     

    اگر دوکانوں میں مال تجارت بھی والد مرحوم ہی کا تھا جس پر دس سال تک تین بیٹے تجارت کرتے رہے، تو اب جو کچھ بھی مال تجارت ہے نیز دوکانیں املاک والد مرحوم ہیں سب کچھ ترکہ ہوگا اور اس کو ورثہٴ شرعی پر تقسیم کرنا واجب ہوگا۔ اگر مرحوم نے اپنے ورثہ میں صرف چھ بیٹے چھوڑے ہیں، بیٹی بیوی اور اپنے والدین میں سے کسی کو اپنی وفات کے وقت نہیں چھوڑا تو مرحوم کا کل مال متروکہ بعد ادائے حقوق متقدمہ علی المیراث چھ حصوں پر تقسیم کرکے ایک ایک حصہ چھ بیٹوں کو برابر برابر دیدیا جائے گا، اگر وارثِ شرعی لکھنے سے رہ گیا ہو تو یہ حکم کالعدم سمجھیں اور سوال دوبارہ کریں، اگر دوکانوں میں مالِ تجارت والد مرحوم کا نہ تھا بلکہ جن تین بیٹوں نے تجارت کی ا ُن کا نجی مال تھا تو ایسی صورت میں مال تجارت ترکہ نہ ہوگا بلکہ کاروبار کرنے والے بیٹے ہی اس کے مالک ہوں گے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند