• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 27271

    عنوان: میرے دادا نے بزنس کے لیے بینک سے لون لیا تھا اور اس کے لیے اپنے مکان کے کاغذات دئیے تھے، اب ان کی وفات ہوچکی ہے اور تمام وارثین گھر فروخت کرنا چاہتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کاغذات نہیں ہیں بلکہ وہ بینک کے پاس ہیں اور کورٹ میں اس سلسلے میں کیس بھی چل رہا ہے، اس لیے جب تک وہ صاف نہیں ہوجاتاہم گھر فروخت نہیں کرسکتے ہیں، کیا ایسی صورت میں کہ جب تک لون ختم نہیں ہوتا ہمارا اس گھر میں رہنا درست ہے؟جب کہ میرے چچا جو اب دادا کے بزنس کو سنبھال رہے ہیں، وہ اس بات سے ناخوش ہیں کہ ہم اس گھر میں رہیں، ان کا اپنا گھر ہے ، ہمارے پاس گھر بنانے کے لئے رقم نہیں ہے۔ ہم نے ان سے کہا ہے کہ جب یہ بک جائے گا تو ہم نیا گھر بنائی لیں گے ۔ وہ نہ کیس ختم کرکے گھر بیچتے ہیں اور نہ ہی ہمارے رہنے پر راضی ہیں۔ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے ، کیا شریعت کی روشنی میں ہم اس گھر میں رہ سکتے ہیں؟

    سوال: میرے دادا نے بزنس کے لیے بینک سے لون لیا تھا اور اس کے لیے اپنے مکان کے کاغذات دئیے تھے، اب ان کی وفات ہوچکی ہے اور تمام وارثین گھر فروخت کرنا چاہتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کاغذات نہیں ہیں بلکہ وہ بینک کے پاس ہیں اور کورٹ میں اس سلسلے میں کیس بھی چل رہا ہے، اس لیے جب تک وہ صاف نہیں ہوجاتاہم گھر فروخت نہیں کرسکتے ہیں، کیا ایسی صورت میں کہ جب تک لون ختم نہیں ہوتا ہمارا اس گھر میں رہنا درست ہے؟جب کہ میرے چچا جو اب دادا کے بزنس کو سنبھال رہے ہیں، وہ اس بات سے ناخوش ہیں کہ ہم اس گھر میں رہیں، ان کا اپنا گھر ہے ، ہمارے پاس گھر بنانے کے لئے رقم نہیں ہے۔ ہم نے ان سے کہا ہے کہ جب یہ بک جائے گا تو ہم نیا گھر بنائی لیں گے ۔ وہ نہ کیس ختم کرکے گھر بیچتے ہیں اور نہ ہی ہمارے رہنے پر راضی ہیں۔ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے ، کیا شریعت کی روشنی میں ہم اس گھر میں رہ سکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 27271

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 1795=486-12/1431

    اگر کسی کا انتقال ہوجائے تو تجہیز وتکفین کے بعد، سب سے پہلے اس کے ترکہ میں سے قرض ادا کرنا چاہیے، پھر مابقیہ ترکے کو ورثہ آپس میں تقسیم کرلیں، تقسیم ترکہ میں تاخیر پسندیدہ نہیں۔ صورتِ مذکورہ میں دادا نے اپنی زندگی میں جو قرض لیا تھا، ورثہ کو چاہیے کہ اسے ادا کریں اور مکان وغیرہ کو آپس میں تقسیم کرلیں، ہاں جب تک تقسیم نہ ہو تو ترکے میں تمام ورثہ کا حق ہے، ہرایک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسے باہم مشورہ کرکے طے کرلینا چاہیے۔ اگر آپ، سوال میں مذکور شخص کے شرعی وارث ہیں تو آپ کو بھی اس میں رہنے کا حق ہے؛ لیکن پوتا، پوتی دادا کے ترکے کے وارث نہیں ہوتے، ہاں باپ کے تابع ہوکر، مکان میں رہ سکتے ہیں۔ البتہ اگر دادا کے انتقال کے بعد، تقسیم ترکہ سے قبل باپ کا انتقال ہوجائے تو پھر پوتا، پوتی کا حق دادا کے متروکہ میراث سے وابستہ ہوجاتا ہے، دادا کے وارِث کے طور پر نہیں، بلکہ باپ کے وارث کے طور پر۔ 


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند